المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ باب: جن مسلمان والدین کے چار بچے (فوت ہو جائیں)، اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا داود بن أبي هِنْد، عن عبد الله بن قيس قال: كنت أرفعُ القضاءَ إلى أبي بُرْدةَ، فكنت عنده فدخل عليه الحارثُ بنُ أُقيشٍ (1)، وكانت له صُحْبة، فحَدَّث ليلتَئذٍ عن النبي ﷺ قال: "ما من مُسلمين (2) يموت لهما أربعةٌ، إلَّا أدخلهم الله الجنةَ بفَضْل رحمتِه إيَّاهما قلنا: يا رسول الله، وثلاثةٌ؟ قال: "وثلاثةٌ" قلنا: يا رسول الله، واثنانِ؟ قال: "واثنانِ" ثم قال: "إنَّ من أمَّتي لَمَن يُعظَّم للنّار حتى يكونَ أحدَ زواياها، وإنَّ من أمتي لَمَن يَدخُل بشفاعتِه الجنةَ أكثرُ من مُضَرَ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8752 - سكت عنه الذهبي في التلخيصعبداللہ بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ابوبردہ کے پاس مقدمات (فیصلے کے لیے) لے جایا کرتا تھا۔ ایک روز میں ان کے پاس تھا کہ حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، اور انہیں (نبی ﷺ کی) صحبت کا شرف حاصل تھا۔ انہوں نے اس رات نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی سے دو مسلمان ایسے نہیں جن کے چار بچے فوت ہو جائیں، مگر اللہ اپنی رحمت کے فضل سے ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور اگر تین ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تین ہوں تب بھی۔“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور اگر دو ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دو ہوں تب بھی۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ میری امت میں سے کسی (نافرمان) کو جہنم کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کے کونوں میں سے ایک کونا بن جائے گا، اور بلاشبہ میری امت میں سے ایک شخص ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت سے قبیلہ مضر کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“
اس حدیث کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (نام) تحریف ہو کر "قیس" بن گیا ہے۔
(2) في النسخ: المسلمين، والمثبت من "التلخيص".
نوٹ / توضیح: نسخوں میں "المسلمین" ہے، جبکہ ہم نے جو متن ثابت کیا ہے وہ "تلخیص" سے لیا گیا ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (239).
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند "حسن" قرار دیے جانے کا احتمال رکھتی ہے جیسا کہ پچھلی روایت نمبر (239) کے تحت بیان گزر چکا ہے۔
وأبو بُرْدة المذكور: هو ابن أبي موسى الأشعري، وكان قاضي الكوفة للحجّاج. ووقع في بعض المصادر التي خرَّجت الحديث: أبو بَرْزة، وهو تحريف، فإنَّ أبا برزة - وهو الأسلمي - لا يعرف أنه تولَّى القضاء.
فنی نکتہ / علّت: مذکورہ "ابو بردہ" سے مراد "ابن ابی موسیٰ الاشعری" ہیں، جو حجاج کی طرف سے کوفہ کے قاضی تھے۔ جن مصادر نے اس حدیث کی تخریج کی ہے ان میں سے بعض میں (نام) "ابو برزہ" واقع ہوا ہے جو کہ تحریف ہے؛ کیونکہ ابو برزہ - جو الاسلمی ہیں - ان کے بارے میں یہ معروف نہیں کہ وہ کبھی عہدہ قضا پر فائز ہوئے۔