حدیث نمبر: 8859
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَوْن العَمْري، أخبرنا أبو حيَّان التَّيْمي، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير قال: جلس إلى مروانَ ثلاثةُ نَفَرٍ بالمدينة، فسمعوه يحدِّثُ عن الآيات: أوّلُها خروجُ الدجال، فقام النَّفَرُ من عند مروان فجلسوا إلى عبد الله بن عمرو، فحدَّثوه بما قال مروان، فقال عبد الله: لم يقل مروانُ شيئًا، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ أول الآيات خُروجًا طلوع الشمس من مَغرِبها والدابَّةُ، أيُّها كانت فالأُخرى على أَثرِها قريبًا". ثم أنشأَ يحدِّث، قال: "وذلك أنَّ الشمس إذا غَرَبَت أتَت تحت العَرْشِ فَسَجَدَت، واستأذَنَت في الرجوع، فيُؤذَن لها، حتى إذا أراد الله أن تَطلُعَ من مغربها أتت تحت العرش فسجدت، واستأذَنَت في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلا يُرَدُّ عليها، وعَلِمَت أَنْ لو أُذِنَ لها لم تُدرِكِ الشرقَ، قالت: يا ربِّ، ما أبعدَ المَشْرِقَ! مَن لي بالناس؟ حتى إذا كان الليلُ أنت فاستأذَنَت، فقال لها: اطلُعِي من مكانِك". قال: وكان عبد الله يقرأ الكتبَ، فقرأ وذلك يومَ ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [الأنعام: 158] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں تین افراد مروان کے پاس بیٹھے، انہوں نے اسے قیامت کی نشانیوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ ان میں سے پہلی نشانی دجال کا خروج ہے، وہ لوگ مروان کے پاس سے اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور انہیں مروان کی کہی ہوئی بات بتائی، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”مروان نے کچھ نہیں کہا (یعنی اس کی بات صحیح نہیں ہے)، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خروج کے اعتبار سے پہلی بڑی نشانیاں سورج کا اپنے مغرب سے طلوع ہونا اور دابة الارض کا نکلنا ہیں، ان میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے فوراً بعد ہوگی۔““ پھر انہوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اور یہ اس طرح ہوگا کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو عرش کے نیچے آکر سجدہ کرتا ہے اور واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے، تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اسے مغرب سے طلوع کرنا چاہے گا تو وہ عرش کے نیچے آکر سجدہ کرے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا، مگر اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، پھر وہ دوبارہ اجازت مانگے گا مگر اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، پھر وہ تیسری بار اجازت مانگے گا تو اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، تب وہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ پائے گا، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مشرق کتنا دور ہے! لوگوں تک مجھے کون پہنچائے گا؟ یہاں تک کہ جب رات طویل ہوجائے گی تو وہ اجازت مانگے گا، تو اس سے کہا جائے گا: اپنے مقام (مغرب) ہی سے طلوع ہوجاؤ۔“ سیدنا عبداللہ چونکہ پرانی کتابیں پڑھا کرتے تھے، پس انہوں نے اس موقع کے متعلق یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ ”کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔“ [سورة الأنعام: 158]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8859
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8859] [ترقيم الشركة 8749]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو حيان التيمي: هو يحيى بن سعيد بن حيان، ومروان هو ابن الحكم.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو حیان تیمی سے مراد ’یحییٰ بن سعید بن حیان‘ ہیں اور مروان سے مراد ’مروان بن حکم‘ ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6531) و (6881)، ومسلم (2941)، وأبو داود (4310)، وابن ماجه (4069) من طرق عن أبي حيان التيمي، به. وهو عندهم - غير أحمد. مختصر.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [11/ (6531) اور (6881)]، مسلم (2941)، ابوداؤد (4310) اور ابن ماجہ (4069) نے ابو حیان تیمی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ احمد کے علاوہ باقی سب کے ہاں یہ حدیث مختصر ہے۔
وانظر للشطر الثاني منه ما سلف برقم (8736) من طريق وهب بن جابر عن عبد الله بن عمرو.
حوالہ / مصدر: اس حدیث کے دوسرے حصے کے لیے وہب بن جابر عن عبد اللہ بن عمرو والی سابقہ روایت نمبر (8736) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8859 سے ماخوذ ہے۔