المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الدَّجَّالِ وَلَا الطَّاعُونُ باب: مدینہ منورہ میں دجال کا رعب اور طاعون داخل نہیں ہو سکے گا
حدیث نمبر: 8844
حدَّثناه محمدُ بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد سَلَمة، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شقيق، عن عبد الله بن سُرَاقة، عن أبي عُبيدة بن الجرّاح قال: قال رسول الله ﷺ: "إنه لم يكن نبيٌّ بعد نوحِ إلَّا وقد أنذَرَ أمّتَه الدجالَ، وإني أُنذِرُكُموه"، فَوَصَفَه لنا رسولُ الله ﷺ قال: "إنكم ستُدركونه أو سيدركُه بعضُ من رآني وسَمِع منِّي" قلنا: يا رسول الله، قلوبُنا يومئذٍ كما هي اليومَ؟ قال: "أو خيرٌ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8630 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نوح علیہ السلام کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو، اور میں بھی تمہیں اس سے خبردار کرتا ہوں“، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اس کا حلیہ بیان فرمایا اور فرمایا: ”تم اسے پاؤ گے یا وہ شخص اسے پائے گا جس نے مجھے دیکھا اور مجھ سے سنا ہے“، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن ہمارے دل (ایمان و ثبات میں) ویسے ہی ہوں گے جیسے آج ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اس سے بھی بہتر ہوں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) أوله صحيح لغيره، وإسناده ضعيف كسابقه.
درجۂ حدیث: اس حدیث کا ابتدائی حصہ ’صحیح لغیرہ‘ ہے، جبکہ بذاتِ خود اس کی سند پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو داود (4756) عن موسى بن إسماعيل التبوذكي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4756) نے موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1693)، والترمذي (2234)، وابن حبان ((6778) من طرق عن حماد بن سلمة، به. وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [3/ (1693)]، ترمذی (2234) اور ابن حبان (6778) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
ويشهد لأوله حديث أنس بن مالك عند البخاري (7131) ومسلم (2933)، ولفظه: "ما بُعث نبي إلّا أنذر أمتَه الأعورَ الكذاب".
متابعات و شواہد: اس کے ابتدائی حصے کی تائید حضرت انس بن مالک کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (7131) اور مسلم (2933) میں ہے، جس کے الفاظ ہیں: "کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا مگر اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے (دجال) سے ڈرایا۔"
وحديث سعد بن أبي وقاص عن أحمد 3/ (1526) وغيره، ولفظه: "إنه لم يكن نبي إلَّا وصف الدجالَ لأمته".
متابعات و شواہد: نیز حضرت سعد بن ابی وقاص کی حدیث جو مسند احمد [3/ (1526)] وغیرہ میں ہے، اس کی تائید کرتی ہے، جس کے الفاظ ہیں: "کوئی نبی ایسا نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کے لیے دجال کا حلیہ بیان نہ کیا ہو۔"
درجۂ حدیث: اس حدیث کا ابتدائی حصہ ’صحیح لغیرہ‘ ہے، جبکہ بذاتِ خود اس کی سند پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو داود (4756) عن موسى بن إسماعيل التبوذكي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4756) نے موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1693)، والترمذي (2234)، وابن حبان ((6778) من طرق عن حماد بن سلمة، به. وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [3/ (1693)]، ترمذی (2234) اور ابن حبان (6778) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
ويشهد لأوله حديث أنس بن مالك عند البخاري (7131) ومسلم (2933)، ولفظه: "ما بُعث نبي إلّا أنذر أمتَه الأعورَ الكذاب".
متابعات و شواہد: اس کے ابتدائی حصے کی تائید حضرت انس بن مالک کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (7131) اور مسلم (2933) میں ہے، جس کے الفاظ ہیں: "کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا مگر اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے (دجال) سے ڈرایا۔"
وحديث سعد بن أبي وقاص عن أحمد 3/ (1526) وغيره، ولفظه: "إنه لم يكن نبي إلَّا وصف الدجالَ لأمته".
متابعات و شواہد: نیز حضرت سعد بن ابی وقاص کی حدیث جو مسند احمد [3/ (1526)] وغیرہ میں ہے، اس کی تائید کرتی ہے، جس کے الفاظ ہیں: "کوئی نبی ایسا نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کے لیے دجال کا حلیہ بیان نہ کیا ہو۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8844 سے ماخوذ ہے۔