حدیث نمبر: 8834
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهرانَ، حدثنا أبي، أخبرنا أحمد بن عبد الرحمن بن وَهْب القُرشي، حدثنا عمِّي، أخبرني يونُس ابن يزيد، عن عطاءٍ الخُراساني، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيباني، عن حديث عمرو الحَضْرمي من أهل حمص، عن أبي أُمامة الباهِلى قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ يومًا، فكان أكثرُ خطبته ذِكرَ الدَّجال يحدِّثُنا عنه حتى فَرَغَ من خطبته، فكان فيما قال لنا يومئذٍ: "إنَّ الله تعالى لم يَبعَثْ نبيًّا إلَّا حذَّر أمَّتَه الدجالَ، وإني آخرُ الأنبياء وأنتم آخرُ الأمم، وهو خارجٌ فيكم لا مَحَالةَ، فإنْ يَخرُجْ وأنا بين أظهُرِكم، فأنا حَجِيجُ كلِّ مسلمٍ، وإنْ يَخرجْ فيكم بعدي، فكلُّ امرِئٍ حجيجُ نفسِه، واللهُ خَليفتي على كلِّ مسلمٍ، إنه يخرج من خَلَّةٍ بين العراق والشام، فعاثَ يمينًا وعاثَ شِمالًا، يا عبادَ الله فاثْبُتوا، فإنه يبدأُ فيقول: أنا نبيٌّ، ولا نبيَّ بعدي، ثم يُثنِّي فيقول: أنا ربُّكم ولن تَرَوا ربَّكم (1) حتى تموتوا، وإنه مكتوبٌ بين عينيه: كافرٌ، يقرؤُه كلُّ مؤمنٍ، فمن لَقِيَه منكم فليَتفُلْ (2) في وجهه وليَقرأْ فواتحَ سورة أصحاب الكهف، وإنه يُسلَّط على نفسٍ من بني آدم فيقتلُها ثم يُحيِيها، وإنه لا يَعْدُو ذلك، ولا يُسلَّطُ على نفسٍ غيرها. وإنَّ من فتنتِه أنَّ معه جنةً ونارًا، فنارُه جنَّةٌ وجنَّتُه نارٌ، فمن ابتُلِيَ بنارِه فليُغمِضْ عينيه وليَستغِثْ بالله، تكون عليه بردًا وسلامًا كما كانت النار بردًا وسلامًا على إبراهيم، وإنَّ من فتنتِه أن يَمُرَّ على الحيِّ فيؤمنون به ويصدِّقونه فيدعو لهم، فتُمطِرُ السماءُ عليهم من يومهم، وتُخصِبُ لهم الأرضُ من يومها، وتَرُوحُ عليهم ماشيتُهم من يومها أعظمَ ما كانت وأسمنَه وأمدَّه خواصرَ وأدرَّه ضروعًا، ويمرُّ على الحيِّ فيكفرون به ويكذِّبونه فيدعو عليهم، فلا يُصبحُ لهم سارحٌ يَسرَحُ. وإنَّ أيامه أربعون، فيومٌ كسَنةٍ، ويومٌ كشهرٍ، ويومٌ كجُمعةٍ، ويومٌ كالأيام، وآخرُ أيامه كالسَّراب، تَقدُرون الأيامَ الطُّوالَ ثم تصلُّون، يُصبِحُ الرجلُ عند باب المدينة فيُمسي قبل أن يَبلُغَ بابَها الآخَر" قالوا: كيف نُصلِّي يا رسول الله في تلك الأيام القِصَار؟ قال: "تَقدُرون فيها ثم تصلُّون" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8620 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا، جس کا زیادہ تر حصہ دجال کے متعلق تھا، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ خطبہ سے فارغ ہوئے تو اس دن جو باتیں آپ ﷺ نے ہمیں بیان فرمائیں ان میں یہ بھی تھا: ”اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایا، اور میں آخری نبی ہوں جبکہ تم آخری امت ہو، اور وہ (دجال) یقیناً تم ہی میں نکلے گا، پس اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو میں ہر مسلمان کی طرف سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر وہ میرے بعد تم میں نکلا تو ہر شخص خود اپنا دفاع کرے گا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (نگہبان) ہے، وہ عراق اور شام کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور دائیں بائیں خوب فتنہ و فساد مچائے گا، اے اللہ کے بندو! تم ثابت قدم رہنا، وہ (فتنے کی) ابتدا اس بات سے کرے گا کہ وہ کہے گا: میں نبی ہوں، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، پھر وہ دوسری بات یہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، جبکہ تم اپنے رب کو مرنے سے پہلے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”کافر“ لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا، پس تم میں سے جو اسے پائے وہ اس کے چہرے پر تھوک دے اور سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، اسے بنی آدم کی ایک جان پر مسلط کیا جائے گا جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کر دے گا، اور وہ صرف اسی ایک شخص کے ساتھ ایسا کر سکے گا اس کے علاوہ کسی اور پر اسے یہ قدرت نہیں دی جائے گی۔ اور اس کے فتنوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ جنت اور آگ ہوگی، پس اس کی آگ (حقیقت میں) جنت ہوگی اور اس کی جنت (حقیقت میں) آگ ہوگی، لہٰذا جو شخص اس کی آگ میں ڈال کر آزمایا جائے وہ اپنی آنکھیں بند کر لے اور اللہ سے فریاد کرے، وہ آگ اس پر اسی طرح ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی جیسے ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی تھی، اور اس کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی قبیلے کے پاس سے گزرے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی تصدیق کریں گے تو وہ ان کے لیے دعا کرے گا، پس اسی دن ان پر آسمان سے بارش برسے گی اور زمین اسی دن غلہ اگا دے گی، اور شام کو ان کے مویشی پہلے سے زیادہ بڑے، خوب فربہ، بھری ہوئی کوکھ اور بھرپور دودھ والے تھنوں کے ساتھ واپس لوٹیں گے، اور وہ ایسے قبیلے کے پاس سے گزرے گا جو اس کا کفر اور تکذیب کریں گے تو وہ ان کے لیے بددعا کرے گا، پس (قحط کی وجہ سے) صبح ان کا کوئی چرنے والا جانور باقی نہ رہے گا۔ وہ زمین میں چالیس دن رہے گا، جن میں سے ایک دن سال کے برابر، ایک دن مہینے کے برابر، ایک دن ہفتے کے برابر اور ایک دن عام دنوں کی طرح ہوگا، اور اس کے آخری ایام سراب (بہت مختصر) کی طرح ہوں گے، تم ان طویل دنوں کا اندازہ کر کے نمازیں پڑھنا، (آخری ایام میں حالت یہ ہوگی کہ) آدمی مدینہ کے ایک دروازے سے صبح نکلے گا تو دوسرے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی شام ہو جائے گی۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ان مختصر ایام میں نماز کیسے پڑھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان میں (وقت کا) اندازہ کر کے نمازیں پڑھنا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8834
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وعمرو الحضرمي: هو عمرو بن عبد الله السَّيباني الحضرمي، وقد سلف تحرير القول في تحسين حديثه عند الحديث رقم (8522)» [ترقيم الرساله 8834] [ترقيم الشركة 8723] [ترقيم العلميه 8620]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) قوله: "فيقول: أنا ربكم، ولن تروا ربكم" سقط من النسخ الخطية وأثبت على هامش (ك) مصحّحًا عليه، وهو ثابت في "تلخيص الذهبي" وفيه: "وإنكم لن تروا ربكم".
نوٹ / توضیح: قول: "وہ کہے گا میں تمہارا رب ہوں، اور تم ہرگز اپنے رب کو نہیں دیکھ سکو گے (دنیا میں)" قلمی نسخوں سے ساقط ہو گیا تھا، اسے نسخہ (ک) کے حاشیے پر تصحیح کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے، اور یہ "تلخیص الذہبی" میں موجود ہے جس میں الفاظ ہیں: "اور بے شک تم اپنے رب کو نہیں دیکھ سکو گے"۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: فليقل، والتصويب من "التلخيص" ومصادر التخريج.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "فلیقل" بن گیا تھا، درستگی "التلخیص" اور تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(1) إسناده حسن، وعمرو الحضرمي: هو عمرو بن عبد الله السَّيباني الحضرمي، وقد سلف تحرير القول في تحسين حديثه عند الحديث رقم (8522). عمُّ أحمد بن عبد الرحمن: هو عبد الله بن وهب.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمرو الحضرمی سے مراد "عمرو بن عبداللہ السیبانی الحضرمی" ہیں، ان کی حدیث کے حسن ہونے پر مفصل کلام حدیث نمبر (8522) کے تحت گزر چکا ہے۔ احمد بن عبدالرحمن کے چچا سے مراد "عبداللہ بن وہب" ہیں۔
وأخرجه أبو داود (4322) من طريق ضمرة بن ربيعة، وابن ماجه (4077) من طريق إسماعيل بن رافع، كلاهما عن أبي زرعة يحيى بن أبي عمرو السيباني، به. وأسقط إسماعيل من إسناده عمرًا الحضرمي، وهو من أوهامه ففيه ضعف، ورواية ابن ماجه مطوّلة جدًّا، ولم يسق أبو داود لفظه وأحال على حديث النواس قبله.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4322) نے ضمرہ بن ربیعہ کے طریق سے، اور ابن ماجہ (4077) نے اسماعیل بن رافع کے طریق سے، اور ان دونوں نے ابو زرعہ یحییٰ بن ابی عمرو السیبانی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسماعیل نے اپنی سند سے "عمرو الحضرمی" کو گرا دیا ہے، اور یہ ان کے "اوہام" میں سے ہے کیونکہ ان میں ضعف ہے۔ ابن ماجہ کی روایت بہت طویل ہے، اور ابوداؤد نے الفاظ نقل نہیں کیے بلکہ اس سے قبل والی نواس کی حدیث پر حوالہ دیا ہے۔
وانظر تتمة تخريجه وشواهده في "سنن ابن ماجه" بتحقيقنا.
حوالہ / مصدر: اس کی بقیہ تخریج اور شواہد "سنن ابن ماجہ" میں ہماری تحقیق میں دیکھیں۔
ومن شواهده حديث النواس بن سمعان عند مسلم، وقد سلف عند المصنف برقم (8718).
متابعات و شواہد: اس کے شواہد میں سے نواس بن سمعان کی حدیث ہے جو صحیح مسلم میں ہے اور مصنف کے ہاں نمبر (8718) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8834 سے ماخوذ ہے۔