المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
لَنْ تُفْتَنَ أُمَّتِي حَتَّى يَظْهَرَ فِيهِمُ التَّمَايُزُ ، وَالتَّمَايُلُ ، وَالْمَقَامِعُ باب: میری امت اس وقت تک فتنے میں نہیں پڑے گی جب تک ان میں تفریق، کج روی اور ظلم ظاہر نہ ہو جائے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن هلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن عمرو قال: كنت جالسًا عند النبيِّ ﷺ، فذكر الفتنة أو ذُكِرَت له، فقال: "إذا الناسُ قد مَرِجَت عهودُهم، وخفَّت أماناتُهم، وصاروا هكذا" وشبَّك بين أصابعه، فقمتُ إليه فقلت: كيف أصنعُ عند ذلك يا رسول الله، جعلني اللهُ فِداك؟ قال: "املِكْ عليك لسانَك، واجلِسْ في بيتِك، وخُذْ ما تعرفُ ودَعْ ما تُنكِر، وعليك بخاصَّةِ نفسِك ودَعْ عنك أمرَ العامَّة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8600 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے فتنے کا ذکر کیا یا آپ کے سامنے فتنے کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ لوگوں کے عہد و پیمان فاسد ہو چکے ہیں، ان کی امانتوں کا پاس ختم ہو گیا ہے اور وہ اس طرح (گڈ مڈ) ہو گئے ہیں“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھایا، (عبداللہ کہتے ہیں) میں آپ ﷺ کی طرف اٹھا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، میں اس وقت (بچاؤ کے لیے) کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی زبان پر قابو رکھنا، اپنے گھر میں ٹک کر رہنا، اس بات کو اختیار کرنا جسے تم (شریعت کی رو سے) صحیح جانتے ہو اور اسے چھوڑ دینا جسے تم غلط (ناپسند) پاؤ، اور تم صرف اپنی ذات کی اصلاح کی فکر کرنا اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دینا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند احمد بن مہران الاصبہانی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وقد سلف برقم (7951) من طريق محمد بن عبيد الطنافسي عن يونس بن أبي إسحاق.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث نمبر (7951) میں محمد بن عبید الطنافسی عن یونس بن ابی اسحاق کے طریق سے گزر چکی ہے۔