المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
ذِكْرُ رَفْعِ الْقُرْآنِ عَنْ قُلُوبِ الْمُسْلِمِينَ باب: مسلمانوں کے دلوں سے قرآن (کے حروف) اٹھا لیے جانے کا تذکرہ
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا أبو مالك الأشجَعي، عن رِبْعيّ بن حِرَاش، عن حُذيفة قال: يَندرِسُ الإسلامُ كما يندرسُ الثوبُ الخَلَقُ حتى يصيرَ الناسُ ما يدرون ما صلاةٌ ولا صيامٌ ولا نُسُك، غير أنَّ الرجل والعجوز يقولون: قد أدرَكْنا الناسَ وهم يقولون: لا إله إلَّا الله، فنحن نقول: لا إله إلّا الله، فقال له صِلَةُ بن زُفَر: وما يُغْني عنهم لا إله إلَّا الله يا حذيفةُ، وهم لا يدرون صلاةً ولا صيامًا ولا نُسكًا؟ قال حذيفة يا صِلةٌ، ما تُغني عنهم لا إله إلّا الله؟! يَنجُون بلا إله إلَّا الله من النار (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اسلام (لوگوں کے دلوں اور زندگیوں سے) اس طرح مٹ جائے گا جیسے پرانے کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں، یہاں تک کہ لوگ یہ بھی نہیں جانیں گے کہ نماز، روزہ اور قربانی و حج کے احکام کیا ہیں، بس بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں یہ کہیں گے: ہم نے اپنے بڑوں کو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہتے ہوئے پایا تھا، لہذا ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ صلہ بن زفر نے ان سے پوچھا: ”اے حذیفہ! جب انہیں نہ نماز کا پتہ ہو، نہ روزے کا اور نہ حج و قربانی کا، تو ان کے لیے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کیا فائدہ دے گا؟“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے صلہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہی کلمہ انہیں جہنم کی آگ سے بچا لے گا؟!“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ محمد بن فضیل کی کتاب "الدعاء" میں رقم (15) پر موجود ہے۔ گزشتہ حدیث نمبر (8668) بھی ملاحظہ کریں۔