المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
ذِكْرُ الْمُصَالَحَةِ بَيْنَ الرُّومِ وَالْمُسْلِمِينَ ثُمَّ الْمُحَارَبَةِ بَيْنَهُمْ باب: رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلح اور پھر ان کے مابین جنگ کا تذکرہ
حَدَّثَنَا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو الأحوَص محمد بن الهَيثم القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير المِصِّيصي، حَدَّثَنَا الأوزاعي، عن حسّان بن عَطيّة، عن ذي مِخمَر - رجل من أصحاب النَّبِيّ ﷺ -، وهو ابن أخي النَّجَاشيّ - أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: "لتُصالِحون الرُّومَ صُلحًا آمنًا حتَّى تَغْزُونَ أنتم وهم عدوًّا من ورائهم، فتُنصَرون وتَغنَمون، وتنصرفون حتَّى تنزلوا بمَرْجٍ ذي تُلُول، فيقولُ قائل من الروم: غَلَبَ الصَّليبُ، ويقول قائل من المسلمين: بل اللهُ غَلَبَ، فيَتداوَلانِها بينهم، فيَثُورُ المسلمُ إلى صليبِهم وهم منهم غيرُ بعيد فيَدُقُّه، ويَثُورُ الرومُ إلى كاسرِ صليبِهم فيقتلونَه، ويَثُورُ المسلمون إلى أسلحتِهم فيُقتَلون، فيُكرِمُ اللهُ ﷿ تلك العِصابةَ من المسلمين بالشهادة، فيقول الرُّومُ لصاحب الروم: كَفَيْناكَ جَدَّ العرب، فيَغدِرُون، فيجتمعون للمَلحَمةِ، فيأتونكم تحتَ ثمانينَ غايةً، تحتَ كلِّ غايةٍ اثنا عَشَرَ ألفًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8298 - صحيحسیدنا ذو مخمر رضی اللہ عنہ (جو نبی کریم ﷺ کے صحابی اور نجاشی کے بھتیجے تھے) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم عنقریب رومیوں کے ساتھ ایک پرامن صلح کرو گے، یہاں تک کہ تم اور وہ مل کر اپنے پیچھے موجود ایک (مشترکہ) دشمن سے جنگ کرو گے، پھر تمہیں نصرت ملے گی اور تم مالِ غنیمت حاصل کرو گے، پھر تم وہاں سے واپس پلٹو گے یہاں تک کہ تم ٹیلوں والی ایک چراگاہ «مَرْجٍ ذِي تُلُول» میں قیام کرو گے، تب رومیوں میں سے ایک شخص (صلیب بلند کر کے) کہے گا: صلیب غالب آگئی، اور مسلمانوں میں سے ایک شخص (جواباً) کہے گا: بلکہ اللہ غالب آیا، وہ دونوں آپس میں یہ تکرار کریں گے، پھر ایک مسلمان ان کی صلیب کی طرف بڑھے گا جبکہ وہ ان سے زیادہ دور نہیں ہوگی اور اسے توڑ دے گا، اس پر رومی مشتعل ہو کر اپنے صلیب توڑنے والے پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیں گے، پھر مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکیں گے اور وہ (بھی) قتل کیے جائیں گے، پس اللہ عزوجل مسلمانوں کی اس جماعت کو شہادت کے مرتبے سے سرفراز فرمائے گا، تب رومی اپنے بادشاہ سے کہیں گے: ہم نے عربوں کی طاقت کو آپ کی طرف سے ختم کر دیا ہے، پھر وہ غداری کریں گے اور بڑی جنگ «المَلحَمة» کے لیے جمع ہوں گے، وہ تمہارے پاس اسی (80) جھنڈوں کے تلے آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (فوجی) ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث (متن کے اعتبار سے) صحیح ہے، لیکن یہ سند حسان بن عطیہ اور ذی مخمر (جسے ذی مخبر بھی کہا جاتا ہے) کے درمیان "معضل" ہے، ان دونوں کے درمیان دو راوی چھوٹ گئے ہیں جیسا کہ بعد والی روایت میں آ رہا ہے۔ فنی نکتہ / علّت: ہمارے غالب گمان کے مطابق اس میں یہ اعضال (انقطاع) راوی "محمد بن کثیر المصیصی" کی طرف سے ہے، کیونکہ ان کی حدیث میں غلطیاں اور اوہام واقع ہو جایا کرتے تھے۔ اگلی روایت دیکھیں۔