المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
لَوْ أَنَّكُمْ لَا تُخْطِئُونَ لَأَتَى اللَّهُ بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ . باب: اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ ایسی قوم لاتا جو گناہ کرتی اور اللہ انہیں معاف فرماتا
حدیث نمبر: 7814
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ درَّاجًا حدَّثه عن ابن حُجَيرة (1)، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "لو أنكم لا تُخطِئون لأتَى اللهُ بقومٍ يُخطِئون يَغفِرُ لهم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7622 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آتا جو گناہ کرتی اور اللہ انہیں معاف فرما دیتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث اس کی شاہد ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ إلى: حجير.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ "حجیر" تحریف کا شکار ہو کر غلط لکھا گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل درّاج أبي السمح. ابن حجيرة: هو عبد الرحمن الخولاني.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: درّاج ابوالسمح نامی راوی کی وجہ سے متابعات و شواہد میں اس کی سند "حسن" ہے۔ سند میں مذکور "ابن حجیرہ" سے مراد "عبدالرحمن الخولانی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (8082)، ومسلم (2749) من طريق يزيد بن الأصم، عن أبي هريرة، مرفوعًا: "والذي نفسي بيده، لو لم تذنبوا، لذهب الله بكم ولجاء بقوم يذنبون فيستغفرون الله، فيغفر لهم".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (جلد 13، حدیث نمبر 8082) اور امام مسلم نے (2749) میں یزید بن الاصم از ابوہریرہ مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں ختم کر دے اور ایسی قوم لائے جو گناہ کرے اور پھر اللہ سے بخشش مانگے، تو اللہ انہیں معاف فرما دے"۔
وأخرجه ضمن حديث مطول أحمد (8043) و (8044)، وابن حبان (7387) من طريق أبي المدلّة مولى عائشة، عن أبي هريرة بنحوه. وهو عند الترمذي (2526)، لكن وقع في سنده خطأ وانقطاع.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8043 اور 8044) اور ابن حبان (7387) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ابو المدلہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی (2526) کے ہاں بھی یہ روایت موجود ہے لیکن وہاں سند میں غلطی اور انقطاع واقع ہوا ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ "حجیر" تحریف کا شکار ہو کر غلط لکھا گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل درّاج أبي السمح. ابن حجيرة: هو عبد الرحمن الخولاني.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: درّاج ابوالسمح نامی راوی کی وجہ سے متابعات و شواہد میں اس کی سند "حسن" ہے۔ سند میں مذکور "ابن حجیرہ" سے مراد "عبدالرحمن الخولانی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (8082)، ومسلم (2749) من طريق يزيد بن الأصم، عن أبي هريرة، مرفوعًا: "والذي نفسي بيده، لو لم تذنبوا، لذهب الله بكم ولجاء بقوم يذنبون فيستغفرون الله، فيغفر لهم".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (جلد 13، حدیث نمبر 8082) اور امام مسلم نے (2749) میں یزید بن الاصم از ابوہریرہ مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں ختم کر دے اور ایسی قوم لائے جو گناہ کرے اور پھر اللہ سے بخشش مانگے، تو اللہ انہیں معاف فرما دے"۔
وأخرجه ضمن حديث مطول أحمد (8043) و (8044)، وابن حبان (7387) من طريق أبي المدلّة مولى عائشة، عن أبي هريرة بنحوه. وهو عند الترمذي (2526)، لكن وقع في سنده خطأ وانقطاع.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8043 اور 8044) اور ابن حبان (7387) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ابو المدلہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی (2526) کے ہاں بھی یہ روایت موجود ہے لیکن وہاں سند میں غلطی اور انقطاع واقع ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7814 سے ماخوذ ہے۔