حدیث نمبر: 7426
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن دَرَستوَيهِ الفارسي، حدثنا أبو يوسف يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو توبة الربيع بن نافع الحلبي، حدثنا محمد بن المهاجر، عن العباس بن سالم، عن أبي سلَّام (1)، عن أبي أُمامة، عن عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ في أول ما بُعِث وهو بمكة، وهو حينئذٍ مُستخفٍ، فقلتُ: ما أنت؟ قال: "أنا نبيٌّ" قلت: وما النبيُّ؟ قال: "رسولُ الله" قلتُ: بما أرسلَك؟ قال: "بأن يُعبَدَ اللهُ، وتُكسَرَ الأوثانُ، وتُوصَلَ الأرحامُ بالبِرِّ والصِّلَة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7240 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمرو بن عبثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ابتدائی دور میں مکہ مکرمہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ (مشرکین سے) پوشیدہ تھے، میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نبی ہوں۔“ میں نے پوچھا: نبی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”اللہ کا رسول۔“ میں نے پوچھا: اللہ نے آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لیے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے، بتوں کو توڑ دیا جائے اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی کی جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7426
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وهو قطعة من الحديث السالف برقم (593) بالإسناد نفسه.» [ترقيم الرساله 7426] [ترقيم الشركة 7336] [ترقيم العلميه 7240]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أبي سالم.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظی تحریف (غلطی) ہو گئی ہے اور "سالم" کی جگہ "ابو سالم" لکھا گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح، وهو قطعة من الحديث السالف برقم (593) بالإسناد نفسه.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور یہ سابقہ حدیث نمبر (593) ہی کا ایک ٹکڑا ہے جو اسی سند کے ساتھ پہلے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7426 سے ماخوذ ہے۔