المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
حِكَايَةُ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ حِينَ أَصَابَتْهُ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ باب: آبی اللحم کے مولیٰ (غلام) کا قصہ جب وہ شدید قحط میں مبتلا ہوئے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن أبيه إسحاق بن الحارث، عن عمِّه إسحاق بن عبد الله [و] عن (2) أبي بكر بن زيد (3)، عن عُميرٍ مولى آبي اللحم - وكان عميرٌ مولًى لبني غِفار - قال: أقبلتُ مع ساداتي نريدُ الهجرةَ حتى [إذا] دَنَوْنا من المدينة تركوني في ظهورِهم ودخلوا المدينةَ، فأصابتني مَجَاعةٌ شديدة، فقال لي بعضُ من مرَّ بي من أهل المدينة: لو دخلتَ بعضَ حوائطِ المدينة فأصبتَ من ثمرِها، فدخلتُ حائطًا، فأتيتُ نخلةً فقطعتُ منها قِنوَينِ (4)، فإذا صاحبُ الحائطِ، فخرج بي حتى أتى رسولَ الله ﷺ، فسألني عن أمرِي فأخبرتُه، فقال: "أيُّهما أفضلُ؟ فأشرتُ إلى أحدِهما، فأمرني بأخذِه، وأمر صاحبَ الحائطِ بأخذِ الآخرِ، وخلَّى سبيلي (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7181 - صحيحسیدنا عمیر رضی اللہ عنہ جو آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام تھے، ان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے آقاؤں کے ساتھ ہجرت کے ارادے سے نکلا یہاں تک کہ جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو انہوں نے مجھے اپنے پیچھے چھوڑ دیا اور خود مدینہ میں داخل ہو گئے، مجھے سخت بھوک لگی، مدینہ کے ایک گزرنے والے شخص نے مجھ سے کہا: اگر تم مدینہ کے کسی باغ میں چلے جاؤ تو وہاں سے پھل حاصل کر سکتے ہو، چنانچہ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور ایک کھجور کے درخت سے دو خوشے توڑ لیے، اچانک باغ کا مالک آگیا اور وہ مجھے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا، آپ ﷺ نے مجھ سے میرا حال پوچھا تو میں نے آپ کو بتا دیا، آپ ﷺ نے (خوشوں کی طرف اشارہ کر کے) پوچھا: ”ان میں سے کون سا زیادہ بہتر ہے؟“ میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا، تو آپ ﷺ نے مجھے وہ لینے کا حکم دیا اور باغ کے مالک کو دوسرا خوشہ لینے کا حکم دیا، اور میرا راستہ چھوڑ دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں سے حرف "واو" ساقط ہو گیا تھا جسے ہم نے تخریج کے دیگر مآخذ سے ثابت کیا ہے؛ چنانچہ ابو بکر بن زید اصل میں عبد الرحمن بن اسحاق کے شیخ ہیں، نہ کہ اسحاق بن عبد اللہ کے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يزيد، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي".
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں تحریف کی وجہ سے یہاں "یزید" لکھا گیا ہے، جبکہ "تلخیص الذہبی" میں یہ درست طور پر (زید) موجود ہے۔
(4) تحرف في النسخ الخطية إلى: قوتي، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي".
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "قوتی" ہو گیا ہے، جبکہ "تلخیص الذہبی" میں درست لفظ موجود ہے۔
(1) حديث حسن، عمُّ إسحاق والد عبد الرحمن لم نقف له على ترجمة، وتابعه أبو بكر بن زيد - وهو ابن المهاجر - متابعة قاصرة فهو شيخ عبد الرحمن بن إسحاق، وقد روى عنه اثنان ولم يؤثر توثيقه عن أحد. وقد روي من وجه آخر عن عمير كما سيأتي.
** درجۂ حدیث: حدیث حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق (جو عبد الرحمن کے والد ہیں) کے چچا کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) ہمیں نہیں مل سکے، البتہ ابو بکر بن زید (ابن المهاجر) نے ان کی متابعتِ قاصرہ کی ہے؛ وہ عبد الرحمن بن اسحاق کے شیخ ہیں، ان سے دو راویوں نے روایت کیا ہے مگر کسی (امامِ جرح و تعدیل) سے ان کی توثیق مروی نہیں ہے۔ یہ روایت ایک اور طریق سے عمیر سے بھی مروی ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه أحمد 36/ (21942) عن رِبعي بن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن إسحاق، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 39 (24009/ 84) من طريق ابن لهيعة عن محمد بن زيد بن المهاجر، عن عمير بنحوه مختصرًا.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 36/ (21942) میں ربعی بن ابراہیم کے واسطے سے عبد الرحمن بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد نے 39/ (24009/ 84) میں ابن لہیعہ کے طریق سے محمد بن زید بن المہاجر عن عمیر سے اسی طرح مختصراً روایت کیا ہے۔