حدیث نمبر: 736
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، عن سفيان، عن عَوْن بن أبي جُحَيفة، عن أبيه؛ قال: قال: رأيت بلالًا يؤذِّن ويَدُور ويُتبعُ فاهُ هاهنا وهاهنا وإصبعيه في أُذنيه، ورسول الله ﷺ في قُبَّةٍ حمراءَ من أَدَمٍ، فخرج بلال بين يديه بالعَنَزَةِ، فَرَكَزَها بالبَطْحاء، فصلَّى إليها رسول الله ﷺ يمرُّ بين يديه الكلبُ والحمارُ، وعليه حُلَّةٌ حمراءُ كأني أنظرُ إلى بَريقِ ساقَيهِ (1).
حافظ طلحہ بابر

عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اذان دے رہے تھے، وہ (اذان کے دوران) اپنا چہرہ ادھر ادھر موڑ رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے کانوں میں تھیں، اور رسول اللہ ﷺ چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے سامنے نیزہ نصب کیا اور آپ ﷺ نے بطحاء کے مقام پر نماز پڑھائی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب الصلاة / حدیث: 736
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، سفيان: هو الثوري» [ترقيم الرساله 736] [ترقيم الشركة 730]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود 'سفیان' سے مراد سفیان ثوری ہیں۔
والحديث في "مسند أحمد" 31 / (18759)، وانظر تفصيل الكلام على الاستدارة في الأذان هناك. ومن طريق عبد الرزاق أخرجه أيضًا الترمذي (197).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث 'مسند احمد' 31/ (18759) میں موجود ہے، وہاں اذان میں گردن گھمانے (استدارہ) کے مسئلے پر تفصیلی کلام ملاحظہ فرمائیں۔
متابعات و شواہد: امام عبد الرزاق کے طریق سے اسے امام ترمذی (197) نے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (18751) و (18762)، والبخاري (634)، ومسلم (503) (249)، وأبو داود (520)، والنسائي (850) و (1619) و (9741)، وابن حبان (2334) و (2382) و (2394) من طرق عن سفيان الثوري بهذا الإسناد - وبعضهم يزيد فيه على بعض.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (18751، 18762)، بخاری (634)، مسلم 503/(249)، ابو داود (520)، نسائی (850، 1619، 9741) اور ابن حبان (2334، 2382، 2394) نے سفیان ثوری کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور بعض روایات میں الفاظ کی کمی بیشی موجود ہے۔
وأخرجه كذلك أحمد (18743)، والبخاري (495) و (633)، ومسلم (503) (251)، وأبو داود (688)، وابن ماجه (711) من طرق عن عون بن أبي جحيفة، به - وبعضهم يزيد فيه على بعض. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے امام احمد (18743)، بخاری (495، 633)، مسلم 503/(251)، ابو داود (688) اور ابن ماجہ (711) نے عون بن ابی جحیفہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ اس کے بعد والی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 736 سے ماخوذ ہے۔