المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
فَضِيلَةُ إِطْعَامِ الطَّعَامِ باب: کھانا کھلانے کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7351
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا همّام بن يحيى، عن قَتَادة، عن أبي ميمونة، عن أبي هريرة قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أنبِئْني عن أمرٍ إذا أخذتُ به دخلتُ الجنة، قال: "أَفشِ السلامَ، وأطعمِ الطعامَ، وصِلِ الأرحامَ، وقمْ بالليل والناسُ نِيامٌ، وادخُل الجنَّةَ بسلام" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7174 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے اپنا کر میں جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اور رات کو اس وقت (نماز کے لیے) کھڑے ہو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو ميمونة: هو الفارسي المدني، ومنهم من فرّق بين الفارسي والأبّار، واختلفوا في اسمه على أقوال، وهو ثقة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو میمونہ سے مراد "الفارسی المدنی" ہیں، بعض محدثین نے الفارسی اور الابّار کے درمیان فرق کیا ہے، ان کے نام میں کئی اقوال ہیں لیکن وہ بذاتِ خود "ثقہ" (قابلِ اعتماد) ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (7932) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وذكر في أوله زيادة. وسيأتي من هذا الطريق مع الزيادة برقم (7465).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 13/ (7932) میں یزید بن ہارون کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کے شروع میں ایک زیادتی بھی ذکر کی ہے، یہ حدیث اسی طریق اور زیادتی کے ساتھ آگے رقم (7465) پر آئے گی۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد (8295) و (8296)، وابن حبان (508) و (2559) من طرق عن همام بن يحيى، به.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے (8295) اور (8296) میں نیز ابن حبان نے (508) اور (2559) میں ہمام بن یحییٰ کے مختلف طرق سے مکمل اور مختصر دونوں طرح روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (4329).
حوالہ / مصدر: جو پہلے گزر چکا ہے اسے رقم (4329) پر ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو میمونہ سے مراد "الفارسی المدنی" ہیں، بعض محدثین نے الفارسی اور الابّار کے درمیان فرق کیا ہے، ان کے نام میں کئی اقوال ہیں لیکن وہ بذاتِ خود "ثقہ" (قابلِ اعتماد) ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (7932) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وذكر في أوله زيادة. وسيأتي من هذا الطريق مع الزيادة برقم (7465).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 13/ (7932) میں یزید بن ہارون کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کے شروع میں ایک زیادتی بھی ذکر کی ہے، یہ حدیث اسی طریق اور زیادتی کے ساتھ آگے رقم (7465) پر آئے گی۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد (8295) و (8296)، وابن حبان (508) و (2559) من طرق عن همام بن يحيى، به.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے (8295) اور (8296) میں نیز ابن حبان نے (508) اور (2559) میں ہمام بن یحییٰ کے مختلف طرق سے مکمل اور مختصر دونوں طرح روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (4329).
حوالہ / مصدر: جو پہلے گزر چکا ہے اسے رقم (4329) پر ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7351 سے ماخوذ ہے۔