❮
❯
حدیث نمبر: 734
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد قال قرئ على عبد الملك بن محمد، وأنا أسمع، حدثنا سهل بن حمَّاد وأبو رَبِيعة قالا: حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن سعيد الجُرَيري. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عفَّان، حدثنا حمَّاد بن سلمة، حدثنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي العلاء، عن مُطرِّف بن عبد الله، عن عثمان بن أبي العاص أنه قال: يا رسول الله، اجعَلْني إمامَ قومي، قال: "أنت إمامُهم، واقتَدِ بأضعفِهم، واتَّخِذْ مؤذنًا لا يأخذُ على أذانِه أجرًا" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کی امامت کریں اور سب سے کمزور مقتدی کا لحاظ رکھیں، اور اذان پر اجرت نہ لینے والا مؤذن رکھیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري حدثنا إسحاق بن منصور السَّلُولي. وأخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا أبو غسَّان مالك بن إسماعيل؛ قالا: حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرَة قال: كان بلال يؤذِّن ثم يُمهِلُ، فإذا رأى رسولَ الله ﷺ قد خرج أقامَ الصلاة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، إنما ذَكَرَ مسلمٌ حديث زهير عن سِماك: كان بلال يؤذِّن إذا دَحَضَت الشمسُ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 723 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے اور پھر تھوڑا توقف فرماتے، جب وہ دیکھتے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنے حجرے سے) باہر تشریف لے آئے ہیں تو پھر اقامت کہتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / أول كتاب الصلاة / حدیث: 734
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 734M] [ترقيم الشركة 728] [ترقيم العلميه 723]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب. وسيأتي مكررًا بالإسناد الأول برقم (868).
درجۂ حدیث: سماک بن حرب کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے، اور یہ روایت پہلی سند کے ساتھ مکرر نمبر (868) پر آئے گی۔
وأخرجه أحمد 34/ (20804) و (20850) و (21007)، وأبو داود (537)، والترمذي (202) من طرق عن إسرائيل بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 34/ (20804، 20850، 21007)، ابو داود (537) اور ترمذی (202) نے اسرائیل (بن یونس) کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے 'حدیث حسن' کہا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (20849)، ومسلم (606) من طريق زهير بن معاوية، عن سماك بن حرب، به بلفظ: كان بلال يؤذِّن إذا دَحَضَت، فلا يقيم حتى يخرج النبي ﷺ، فإذا خرج أقام الصلاة حين يراه. واللفظ لمسلم، فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اس کے ہم معنی روایت امام احمد (20849) اور امام مسلم (606) نے زہیر بن معاویہ عن سماک بن حرب کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے: "حضرت بلال رضی اللہ عنہ سورج ڈھلتے ہی اذان دیتے تھے، اور جب تک نبی ﷺ باہر تشریف نہ لاتے اقامت نہیں کہتے تھے، پھر جب آپ ﷺ کو دیکھتے تو اقامت کہتے۔"
فنی نکتہ / علّت: یہ الفاظ مسلم کے ہیں، لہذا امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی چوک (ذہول) ہے۔
وأخرج ابن ماجه (713) من طريق شريك النخعي، عن سماك، عن جابر بن سمرة قال: كان

بلال لا يؤخر الأذان عن الوقت، وربما أخَّر الإقامة شيئًا.

حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (713) نے شریک بن عبد اللہ النخعی عن سماک کی سند سے حضرت جابر بن سمرہ سے روایت کیا ہے کہ: "حضرت بلال اذان کو وقت سے مؤخر نہیں کرتے تھے، البتہ بسا اوقات اقامت میں کچھ تاخیر کر دیتے تھے۔"
وانظر ما سيأتي برقم (1069).
نوٹ / توضیح: مزید مطالعہ کے لیے آگے آنے والی حدیث نمبر (1069) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 734 سے ماخوذ ہے۔