المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ باب: عجوہ کھجور اور (بیت المقدس کا) صخرہ جنت سے ہیں
حدیث نمبر: 7313
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغاني، حدثنا العباس بن الفضل الأزرق، حدثنا مهدي بن ميمون، عن شعيب بن الحَبْحاب، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ كان يأكلُ الرُّطَبَ، ويُلقِي النَّوى على القُنْعُ؛ والقُنْعُ: الطَّبق (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7136 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ تازہ کھجوریں تناول فرمایا کرتے تھے اور ان کی گٹھلیاں «القُنْعُ» پر ڈال دیتے تھے؛ اور «القُنْعُ» سے مراد طبق (پلیٹ یا تھال) ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف جدًّا، العباس بن الفضل - وهو ابن عباس بن يعقوب - الأزرق متفق على ضعفه، واتهمه ابن معين.
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عباس بن الفضل الازرق کے ضعف پر سب کا اتفاق ہے اور امام ابن معین نے تو ان پر (جھوٹ کی) تہمت بھی لگائی ہے۔
ولم نقف عليه عند غير المصنف.
نوٹ / توضیح: یہ روایت ہمیں مصنف (امام حاکم) کے علاوہ کسی اور کتاب میں نہیں ملی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عباس بن الفضل الازرق کے ضعف پر سب کا اتفاق ہے اور امام ابن معین نے تو ان پر (جھوٹ کی) تہمت بھی لگائی ہے۔
ولم نقف عليه عند غير المصنف.
نوٹ / توضیح: یہ روایت ہمیں مصنف (امام حاکم) کے علاوہ کسی اور کتاب میں نہیں ملی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7313 سے ماخوذ ہے۔