المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
الْبَرَكَةُ تَنْزِلُ فِي وَسَطِ الطَّعَامِ باب: برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے
حدیث نمبر: 7296
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العدل، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب قال: دُعينا إلى طعام، ومَن ثَمَّ؟! ثَمَّ سعيدُ بن جُبير، ثَمَّ مِقسمٌ، ثَمَّ فلان، ثَمَّ فلان، فقال لهم سعيد بن جُبير حين وَضَعُوا الجَفْنَةَ: أكلُّكم قد سمع ما يُقال في الطعام؟ قال مِقسَم: حَدِّثهم، قال: إنَّ ابن عباس حدَّث عن رسول الله ﷺ: "إنَّ البَرَكةَ تَنزِلُ في وَسَطِ الطعام، فكُلُوا من حَافَاتِه ولا تأكُلوا من وَسَطِه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7118 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، لہٰذا تم اس کے کناروں سے کھایا کرو اور درمیان سے نہ کھایا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عيينة. وأخرجه أحمد 4/ (2139) و (2730)، وأبو داود (3772)، وابن ماجه (3277)، والترمذي (1805)، والنسائي (6729)، وابن حبان (5245) من طرق عن عطاء بن السائب، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے عطاء بن السائب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے عطاء بن السائب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7296 سے ماخوذ ہے۔