حدیث نمبر: 711
فحدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدّثنا يزيد بن الهيثم، حدّثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدّثنا الأشجعي، عن سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدّثنا أبو المثنَّى، حدّثنا مسدَّد، حدّثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدّثنا محمد بن بشَّار، حدّثنا أبو أحمد الزُّبيري ومُؤمَّل بن إسماعيل قالا: حدّثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن الحارث بن أبي رَبِيعة، عن حَكِيم بن حكيم بن عبَّاد بن حُنَيف، عن نافع بن جُبَير بن مُطعِم، عن ابن عباس قال: أمَّ جبريلُ النبيَّ ﷺ عند البيت مرَّتَين، فصلّى به الظهرَ حين مالت الشمس وكانت قَدْرَ الشِّراك، ثم صلَّى به العصرَ حين كان ظلُّ كلِّ شيء بقَدْره، وصلَّى به المغربَ حين أفطَرَ الصائمُ، ثم صلَّى به العشاءَ حين غاب الشَّفَقُ، ثم صلَّى به الفجرَ حين حَرُمَ الطعامُ والشرابُ على الصائم، ثم صلَّى به الظهرَ من الغد كان ظلُّ كلِّ شيء بقَدْره كوقت العصر بالأمس، ثم صلَّى به العصرَ حين كان ظلُّ كلِّ شيء مِثلَيه، ثم صلَّى به المغربَ حين أفطَرَ الصائم، ثم صلَّى به العشاءَ لثلثِ الليل الأوّل من الليل، ثم صلَّى به الفجرَ حين أسفَرَ، ثم قال: يا محمدُ، هذا وقتُ الأنبياء من قبلِك؛ ما بين هذينِ الوقتين" (1). وأما حديث عبد العزيز بن محمد:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی۔ انہوں نے (پہلے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ تسمے کے برابر تھا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، مغرب اس وقت جب روزہ دار افطار کرتا ہے (یعنی سورج ڈوبتے ہی)، عشاء اس وقت جب شفق غائب ہوگئی، اور فجر اس وقت جب روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔ اگلے دن ظہر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل تھا (یعنی گزشتہ دن کے عصر کے وقت)، عصر اس وقت جب سایہ دو مثل ہو گیا، مغرب اسی وقت جب روزہ دار افطار کرتا ہے (یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی)، عشاء تہائی رات گزرنے پر، اور فجر خوب روشنی (اسفار) ہونے پر۔ پھر فرمایا: اے محمد! یہ آپ سے پہلے کے انبیاء کا وقت ہے؛ اور (اصل) وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب الصلاة / حدیث: 711
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل عبد الرحمن بن الحارث وحكيم بن حكيم» [ترقيم الرساله 711] [ترقيم الشركة 704/2]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن الحارث وحكيم بن حكيم.
درجۂ حدیث: یہ سند عبد الرحمن بن حارث اور حکیم بن حکیم کی وجہ سے 'حسن' درجے کی ہے۔
وأخرجه أحمد 5/ (3081) و (3322)، وأبو داود (393) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 5/ (3081، 3322) اور امام ابو داود (393) نے سفیان ثوری کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذيّ (149) من طريق عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن عبد الرحمن بن الحارث، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (149) نے عبد الرحمن بن ابی الزناد کے طریق سے، انہوں نے عبد الرحمن بن حارث سے روایت کیا ہے۔
وقال: حديث حسن.
درجۂ حدیث: اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔
قوله: "كانت قدر الشِّراك" أي: كان ظلُّها قدر الشراك، والشِّراك: أحد سُيور النعل التي تكون على وجهها.
نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "كانت قدر الشِّراك" کا مطلب یہ ہے کہ (زوال کے وقت) سایہ جوتے کے تسمے کے برابر رہ گیا تھا۔ 'شراک' جوتے کے ان چمڑے کے تسموں یا فیتوں کو کہتے ہیں جو اس کے اوپری حصے (رخ) پر ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 711 سے ماخوذ ہے۔