المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
فَضِيلَةُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ باب: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 703
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا العباس بن الوليد بن مَزيَد البيروتي، أخبرني أبي قال: سمعت الأوزاعيَّ قال: حدَّثني أبو النَّجَاشي قال: حدَّثني رافع بن خَدِيج قال: كنا نصلي مع رسول الله ﷺ العصرَ، ثم ننحرُ الجَزُور، فنَقسِمُ عَشرَ قِسَم، ثم نَطبخ فنأكلُ لحمًا نَضِيجًا قبل أن تغيبَ الشمس (3). قد اتفق البخاريّ ومسلم على إخراج حديث الأوزاعي عن أبي النجَّاشي عن رافع ابن خَدِيج قال: كنا نصلي المغربَ (1) مع رسول الله ﷺ ثم تنصرفُ وأحدُنا يُبصِرُ مواقعَ نَبْلِه (2). وله شاهدان صحيحان في تعجيل الصلاة، ولم يُخرجاه. فالشاهد الأول منهما:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اونٹ ذبح کرتے اور اس کے دس حصے کرتے، پھر اسے پکاتے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پکا ہوا گوشت کھا لیتے تھے۔
امام بخاری اور امام مسلم نے رافع بن خدیج کی مغرب والی روایت پر تو اتفاق کیا ہے کہ نماز کے بعد ہم تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے، لیکن تعجیلِ عصر کے بارے میں یہ روایت ان کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو النَّجاشي: هو عطاء بن صهيب مولى رافع بن خديج.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں 'ابو النجاشی' سے مراد عطاء بن صہیب ہیں، جو کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17275) و (17289)، والبخاري (2485)، ومسلم (625)، وابن حبان (1515) من طرق عن الأوزاعي، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له على الشيخين ذهول منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 28/ (17275) اور (17289)، امام بخاری (2485)، امام مسلم (625) اور ابن حبان (1515) نے مختلف طرق سے امام اوزاعی (عبد الرحمن بن عمرو) کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث کو شیخین پر لازم (استدراک) قرار دینا ان کی ذہنی چوک (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے ان کے ہاں موجود ہے۔
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: العصر، والتصحيح من رواية "الصحيحين".
نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں یہ لفظ 'العصر' میں تبدیل (تحریف) ہو گیا ہے، جبکہ صحیح لفظ وہ ہے جو 'صحیحین' (بخاری و مسلم) کی روایت میں مذکور ہے اور اسی سے تصحیح کی گئی ہے۔
(2) هذا عند البخاريّ برقم (559) ومسلم (637).
حوالہ / مصدر: یہ روایت امام بخاری کے ہاں نمبر (559) اور امام مسلم کے ہاں نمبر (637) پر موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں 'ابو النجاشی' سے مراد عطاء بن صہیب ہیں، جو کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17275) و (17289)، والبخاري (2485)، ومسلم (625)، وابن حبان (1515) من طرق عن الأوزاعي، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له على الشيخين ذهول منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 28/ (17275) اور (17289)، امام بخاری (2485)، امام مسلم (625) اور ابن حبان (1515) نے مختلف طرق سے امام اوزاعی (عبد الرحمن بن عمرو) کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث کو شیخین پر لازم (استدراک) قرار دینا ان کی ذہنی چوک (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے ان کے ہاں موجود ہے۔
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: العصر، والتصحيح من رواية "الصحيحين".
نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں یہ لفظ 'العصر' میں تبدیل (تحریف) ہو گیا ہے، جبکہ صحیح لفظ وہ ہے جو 'صحیحین' (بخاری و مسلم) کی روایت میں مذکور ہے اور اسی سے تصحیح کی گئی ہے۔
(2) هذا عند البخاريّ برقم (559) ومسلم (637).
حوالہ / مصدر: یہ روایت امام بخاری کے ہاں نمبر (559) اور امام مسلم کے ہاں نمبر (637) پر موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 703 سے ماخوذ ہے۔