حدیث نمبر: 7007
أخبرناه أبو الحسين أحمد بن عثمان المقرئ ببغداد، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثنا يزيد بن الهاد، حدثني عمر بن عبد الله بن عُروة بن الزبير، عن عُروة بن الزبير، عن عائشة زوج النَّبيّ ﷺ: أن رسول الله ﷺ لما قَدِمَ المدينة خرجت ابنته زينب من مكة مع كنانة - أو ابن كنانة - فخرجوا في أثرها، فأدركها هبَّارُ بن الأسود، فلم يزل يَطعُنُ بعيرَها برمجه حتى صَرَعَها وألقَت ما في بطنها وأهراقت دمًا، فحُمِلت، فاشتَجَرَ فيها بنو هاشم وبنو أمية، فقالت بنو أمية: نحن أحقُ بها، وكانت تحتَ ابن عمهم أبي العاص، فصارت عند هند بنت عتبة بن ربيعة، وكانت تقول لها هند: هذا بسبب أبيك، فقال رسول الله ﷺ لزيد بن حارثة: "ألا تنطلِقُ فتجِيءَ بزينب؟ " قال: بلى يا رسول الله، قال: "فخُذُ خاتمي" فأعطاه إياه، فانطلق زيد وترك بعيره، فلم يزل يتلطَّفُ حتى لقي راعيًا، فقال: لمن ترعى؟ قال: لأبي العاص، قال فلمن هذه الغَنَم؟ قال: لزينب بنتِ محمد، فسار معه شيئًا، ثم قال له: هل لك أن أعطيك شيئًا تُعطِها إياه ولا تذكره لأحدٍ؟ قال: نعم، فأعطاه الخاتم، فانطلق الراعي فأدخلَ غنمه وأعطاها الخاتم، فعرفته، فقالت: مَن أعطاك هذا؟ قال: رجلٌ، قالت: وأين تركته؟ قال: بمكان كذا وكذا، قال: فسكتت حتى إذا كان (1) الليل خرجَتْ إليه، فلما جاءته قال لها: اركبي، قالت: لا، ولكن اركَبْ أنتَ بين يديَّ، فرَكِبَ وركبت وراءه حتى أتت، فكان رسول الله ﷺ يقول: "هي أفضل بناتي، أُصيبت في". فبلغ ذلك عليَّ بن الحسين، فانطلق إلى عُزوة فقال: ما حديثٌ بلغني عنك تُحدِّثُ به تَنقُصُ به حق فاطمة؟ قال: عُرْوة: والله إني لا أُحبُّ (2) أنَّ لي ما بينَ المشرق والمغرب وإنِّي أنتقِصُ فاطمة حقًّا هو لها، وأما بعد، فإنَّ لك أن لا أحدث به أبدًا (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا، کنانہ یا ابن کنانہ کے ہمراہ مکہ سے نکلیں، قریش نے ان کا پیچھا کیا اور ہبار بن اسود نے ان کو جا لیا، وہ مسلسل اپنے نیزے سے ان کے اونٹ کو کچوکے لگاتا رہا یہاں تک کہ اس نے انہیں زمین پر گرا دیا، جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہو گیا اور انہیں شدید خون بہنے لگا، پھر انہیں (زخمی حالت میں) اٹھایا گیا تو ان کے معاملے پر بنو ہاشم اور بنو امیہ میں جھگڑا ہو گیا، بنو امیہ کہنے لگے: ”ہم ان کے زیادہ حقدار ہیں“، کیونکہ وہ ان کے چچا زاد ابوالعاص کے نکاح میں تھیں، چنانچہ وہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ کے پاس رہیں اور ہند انہیں (طنزاً) کہتی تھی: ”یہ سب تمہارے باپ کی وجہ سے ہوا ہے“، تب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم جا کر زینب کو نہیں لاؤ گے؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں یا رسول اللہ“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری یہ انگوٹھی لے جاؤ“ اور وہ انہیں دے دی، زید روانہ ہوئے اور اپنا اونٹ (شہر سے باہر) چھوڑ دیا، وہ مسلسل بڑی تدبیر سے کام لیتے رہے یہاں تک کہ ایک چرواہے سے ملے، زید نے پوچھا: ”تم کس کی بکریاں چراتے ہو؟“ اس نے کہا: ”ابوالعاص کی“، پوچھا: ”اور یہ بکریاں کس کی ہیں؟“ اس نے کہا: ”زینب بنت محمد کی“، زید اس کے ساتھ کچھ دور چلے اور پھر اس سے کہا: ”کیا یہ ممکن ہے کہ میں تمہیں ایک چیز دوں جو تم انہیں پہنچا دو اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں“، تو زید نے اسے انگوٹھی دے دی، چرواہا بکریاں لے کر گھر داخل ہوا اور انہیں انگوٹھی تھما دی، انہوں نے اسے فوراً پہچان لیا اور پوچھا: ”تمہیں یہ کس نے دی ہے؟“ اس نے بتایا: ”ایک شخص نے“، پوچھا: ”تم نے اسے کہاں چھوڑا ہے؟“ اس نے جگہ بتائی، سیدہ خاموش رہیں یہاں تک کہ جب رات ہوئی تو وہ اس کی بتائی ہوئی جگہ پر زید کے پاس پہنچ گئیں، جب وہ ان کے پاس آئیں تو زید نے کہا: ”آپ سوار ہو جائیں“، انہوں نے کہا: ”نہیں، بلکہ آپ میرے آگے سوار ہوں (تاکہ پردہ رہے)“، چنانچہ زید سوار ہوئے اور وہ ان کے پیچھے سوار ہوئیں یہاں تک کہ مدینہ آگئیں، رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”وہ میری بہترین بیٹیوں میں سے ہے، جسے میری وجہ سے تکلیف پہنچائی گئی“، جب یہ بات علی بن حسین (امام زین العابدین) تک پہنچی تو وہ عروہ کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے آپ کے بارے میں کیا بات پہنچی ہے جو آپ بیان کرتے ہیں جس سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں کمی محسوس ہوتی ہے؟“ عروہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے مشرق و مغرب کے درمیان موجود تمام مال و متاع ملنا بھی پسند نہیں اگر میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں کوئی ایسی بات کروں جس سے ان کی شان میں کمی ہو، البتہ اگر آپ کو ناگوار گزرا ہے تو میں آپ کے سامنے یہ بات دوبارہ کبھی بیان نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7007
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 7007] [ترقيم الشركة 6928]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز) و (ب): جاء، والمثبت من (م) و (ص).
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "جاء" ہے، درست متن (م) اور (ص) سے لیا گیا ہے۔
(2) رسمت في نسخنا الخطية: إني لأحب، سوى (م) ففيها: إني أحب!
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں (لامِ تاکید کے ساتھ) "إني لأحب" لکھا ہے، سوائے نسخہ (م) کے جس میں "إني أحب" ہے۔
(3) إسناده حسن إن شاء الله من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي المصري - وأعله الذهبي به في "التلخيص" وقال: خبر منكر، ويحيى ليس بالقوي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "یحییٰ بن ایوب" (الغافقی المصری) کی وجہ سے ان شاء اللہ "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: تاہم ذہبی نے "التلخیص" میں اسی راوی کی وجہ سے اس پر علت لگائی ہے اور کہا: "یہ خبر منکر ہے، اور یحییٰ قوی راوی نہیں ہے۔"
وقد سلف عند المصنف برقم (2848).
نوٹ / توضیح: یہ روایت مصنف کے ہاں نمبر (2848) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7007 سے ماخوذ ہے۔