المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ رَيْحَانَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ التَّسَرِّي باب: سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ تھیں ان کا ذکر بعد از تسری
قال أبو عُبيدةَ مَعمرُ بن المثنّى: وكانت من سَرَاري رسول الله ﷺ ريحانة بنت زيد بن شمعون من بني النضير، قال بعضُهم: من بني قريظة، فكانت تكون في النخل، وكان رسول الله ﷺ يقيل عندها أحيانًا، وكان سَبَاها في شوال سنة أربعٍ. قال أبو عبيدة: وهنَّ أربعٌ: مارية القبطية، وريحانة، وجميلة أصابها في السبي فكادَها نساؤُه، خِفْنَ أَن تَغلِبَهنَّ عليه، وكانت له جاريةٌ أخرى نَفيسةُ وَهَبَتها له زينب بنت جحش، وقد كان هَجَرَها في شأن صفية بنت حُيَي ذا الحِجَّة والمحرَّم وصَفَر، فلما كان شهر ربيع الأول الذي قُبِضَ فيه النَّبيّ ﷺ رَضِيَ عن زينب ودخل عليها، فقالت ما أدري ما أجزيك! فَوَهَبَتها له ﷺ. ذكر بناتِ رسول الله ﷺ بعد فاطمة ﵅ ذكر زينب بنتِ خديجة ﵂، وهي أكبر بنات رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6832 - سكت عنه الذهبي في التلخيصابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی چار لونڈیاں (سُراری) تھیں: ماریہ قبطیہ، ریحانہ بنت زید بن شمعون جن کا تعلق بنو نضیر سے تھا (بعض کے نزدیک وہ بنو قریظہ سے تھیں، وہ کھجوروں کے باغ میں رہا کرتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ کبھی کبھی دوپہر کو وہاں قیلولہ فرماتے تھے، انہیں شوال سنہ 4 ہجری میں قیدی بنایا گیا تھا)، تیسری جمیلہ تھیں جو قید ہو کر آئی تھیں مگر ازواج مطہرات کو ان کے بارے میں غیرت ہوئی اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں وہ ان پر غالب نہ آ جائیں، اور چوتھی ایک نہایت نفیس لونڈی تھی جو سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو ہدیہ کی تھی؛ ہوا یوں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے معاملے پر سیدہ زینب سے ذوالحجہ، محرم اور صفر کے مہینوں میں علیحدگی اختیار فرمائی تھی، پھر جب ربیع الاول کا مہینہ آیا جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ زینب رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے اور ان کے پاس تشریف لے گئے، جس پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے خوش ہو کر عرض کی کہ میں نہیں جانتی میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں! چنانچہ انہوں نے وہ لونڈی آپ ﷺ کو ہبہ کر دی۔