حدیث نمبر: 6580
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا محمد بن الصَّبّاح، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، حدثني أَبي قال: قلت لسَهْل ابن سعدٍ الساعِدِي: يا أبا العبّاس (1).
حافظ طلحہ بابر

ابوحازم سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت سے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اے ابوالعباس!۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6580
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن الصباح: هو الجرجرائي.» [ترقيم الرساله 6580] [ترقيم الشركة 6501]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. محمد بن الصباح: هو الجرجرائي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن الصباح سے مراد "الجرجرائی" ہیں۔
وأخرج أحمد 37/ (22841) من طريق محمد بن مطرِّف، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد في حديث: "منبري على تُرعة من ترع الجنة"، فقال له أبو حازم: ما التُّرعة يا أبا العبّاس؟ قال: الباب. وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22841) نے محمد بن مطرف عن ابی حازم عن سہل بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں حدیث کے الفاظ ہیں: "میرا منبر جنت کے دروازوں (تُرع) میں سے ایک دروازے پر ہے"۔
نوٹ / توضیح: ابو حازم نے پوچھا: اے ابوالعباس! "التُرعہ" کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: "دروازہ"۔ اس کی سند صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6580 سے ماخوذ ہے۔