حدیث نمبر: 6441
حدثنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر المعدَّلُ حَفَدَةُ إبراهيم بن هانئ، حدثنا الحُسين (3) بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حمّاد ابن زيد، عن عطاء بن السائب قال: قال لي مُحارِب بن دِثَار: هل سمعتَ سعيدَ بن جُبير يَذكُر عن ابن عبّاس في الكَوثَر شيئًا؟ قلت: نعم، قال: هو الخيرُ الكثير، قال: سبحان الله، قلَّ ما يَسقُطُ لابن عبّاس، يقول: سمعتُ ابنَ عمر (4) يقول: لما نزلت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾، قال رسول الله ﷺ: "هو نهرٌ في الجنة، حافَتَاه من ذهبٍ يَجْري على الدُّرِّ والياقُوت، شرابه أشدُّ بياضًا من اللَّبَن، وأَحلى من العَسَل"، فقال: صَدَقَ واللهِ ابنُ عبّاس، هذا والله الخيرُ الكثير (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ وفاة عبد الله بن عبّاس ﵄
حافظ طلحہ بابر

محارب بن دثار نے عطاء بن سائب سے پوچھا کہ کیا تم نے سعید بن جبیر کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کوثر کے متعلق کچھ بیان کرتے سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے بتایا کہ اس سے مراد ”خیرِ کثیر“ یعنی بہت زیادہ بھلائی ہے، اس پر انہوں نے کہا: سبحان اللہ، ابن عباس کی کوئی بات شاذ و نادر ہی خطا ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ جب آیت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جنت میں ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، وہ موتیوں اور یاقوت کے اوپر بہتی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔“ تب انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ابن عباس نے سچ کہا، یہی تو اصل میں ”خیرِ کثیر“ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6441
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وأخرجه أحمد 10/ (5913) عن مؤمل بن إسماعيل، عن حماد بن زيد بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 6441] [ترقيم الشركة 6367]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحَسن، وقد جاء على الصواب في عشرات المواضع من هذا الكتاب.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ تحریف ہو کر "الحسن" ہو گیا ہے، جبکہ اس کتاب میں درجنوں دیگر مقامات پر یہ لفظ صحیح طور پر درج ہے۔
(4) هكذا في نسخنا الخطية: "يقول" بياء في أوله والعبارة في "مسند أحمد": ما أقل ما يسقط لابن عبّاس قولٌ، سمعت ابن عمر. وهي أوجهُ.
فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں "یقول" (یاء کے ساتھ) ہے، لیکن مسند احمد کی عبارت زیادہ واضح اور بہتر ہے جہاں الفاظ یہ ہیں: "ابن عباس کی کوئی بات بمشکل ہی خطا ہوتی تھی، میں نے یہ ابن عمر سے سنا"۔
(5) إسناده صحيح. وأخرجه أحمد 10/ (5913) عن مؤمل بن إسماعيل، عن حماد بن زيد بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (10/ 5913) میں مؤمل بن اسماعیل کے طریق سے حماد بن زید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلفت رواية سعيد بن جبير عن ابن عبّاس مختصرة برقم (4023).
اہم نکتہ: سعید بن جبیر کی ابن عباس سے مختصر روایت پیچھے رقم (4023) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6441 سے ماخوذ ہے۔