حدیث نمبر: 6415
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا سليمان ابن حَرْب وعارِمُ بن الفضل قالا: حدثنا حماد بن زيد عن عمرو بن دينار، قال: ذُكِرَ عند جابر لحومُ الحُمُر الأهلية، فقال: أبَى ذاكَ البحرُ - يعني ابنَ عبّاس - وتلا: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [الأنعام: 145] (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6282 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس گھریلو گدھوں کے گوشت کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا: اس سمندر —یعنی ابن عباس— نے اس سے انکار کیا ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ ”آپ کہہ دیجیے کہ جو وحی میری طرف آئی ہے اس میں میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو (کھانے والے پر) حرام ہو۔“ [سورة الأنعام: 145]

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6415
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عارم: لقبٌ، وهو محمد بن الفضل، وجابر: هو ابن زيد أبو الشعثاء البصري.» [ترقيم الرساله 6415] [ترقيم الشركة 6341] [ترقيم العلميه 6282]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. عارم: لقبٌ، وهو محمد بن الفضل، وجابر: هو ابن زيد أبو الشعثاء البصري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں "عارم" سے مراد محمد بن الفضل (لقب) ہے، اور "جابر" سے مراد جابر بن زید ابوالشعثاء البصری ہیں۔
وقد سلف عند المصنف برقم (3275) من طريق سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار.
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے رقم 3275 پر سفیان بن عیینہ کے طریق سے عمرو بن دینار کے واسطے سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6415 سے ماخوذ ہے۔