المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
شَرِكَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو غَزْوَةَ صِفِّينَ بِأَمْرِ أَبِيهِ باب: عبد اللہ بن عمرو کی اپنے والد کے حکم سے جنگ صفین میں شرکت
حدثني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال، عن عليِّ بن يحيى، عن عَمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عَمرو قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في غَزْوة له ففَزِعَ الناسُ، فخرجتُ وعليَّ سلاحي، فنظرتُ إلى سالم مولى أبي حُذَيفة عليه سلاحُه يمشي وعليه السَّكينةُ، فقلت: لأَقتديَنَّ بهذا الرجل الصالح، حتى أَتى فجَلَسَ عند بابِ رسول الله ﷺ، وجلستُ معه، فخرج رسول الله ﷺ مُغضَبًا فقال: "يا أيها الناس، ما هذه الخِفَّةُ؟ ما هذا النَّزَقُ؟ أعجَرْتُم أَن تَصنَعوا كما صَنَعَ هذانِ الرجلانِ المؤمنانِ؟ " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6244 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک غزوے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ لوگ اچانک گھبرا گئے، پس میں اپنا اسلحہ لگا کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ بھی اپنا اسلحہ لگائے وقار اور سکون کے ساتھ چل رہے ہیں، میں نے دل میں کہا کہ میں ضرور اس مردِ صالح کی اقتدا کروں گا، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر جا کر بیٹھ گئے اور میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، پھر رسول اللہ ﷺ غصے کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ کیسی جلد بازی اور کیسا جوش و غصہ ہے؟ کیا تم اس بات سے عاجز تھے کہ ویسا ہی عمل کرتے جیسا ان دو مومن مردوں نے کیا؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کا اسناد "لَیِّن" (کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: علی بن یحییٰ کا ذکر امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 6/ 300 اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" 6/ 208 میں کیا ہے، مگر ان دونوں نے نہ تو ان کی نسبت بیان کی ہے اور نہ ہی ان سے روایت کرنے والے کسی راوی کا ذکر کیا ہے سوائے سعید بن ابی ہلال کے؛ لہٰذا اس بنیاد پر یہ راوی "مجہول" ہے۔
وذكره البخاري في "تاريخه" 6/ 300 - 301 معلقًا عن عبد الله بن صالح، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے اپنی "تاریخ" 6/ 300 - 301 میں عبد اللہ بن صالح عن لیث بن سعد کے واسطے سے اسی اسناد کے ساتھ "معلقاً" ذکر کیا ہے۔