المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِخْبَاءُ رَسُولِ اللَّهِ قَبَاءً لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ باب: رسول اللہ ﷺ نے مخرمہ بن نوفل کے لیے ایک چادر محفوظ رکھی
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا حاتم بن وَرْدانَ، حدثنا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكةَ، عن المِسوَر ابن مَخرَمة قال: قَدِمَت على النبيِّ ﷺ أَقبيَةٌ فَقَسَمَها بين أصحابه، فقال لي أَبي: انطلِقْ بنا إليه، فإنه أتَتْه أقبيَةٌ، فتكلَّم أَبي على الباب فعَرَفَ رسولُ الله ﷺ صوتُه، فخرج ومعه قَبَاءٌ، فجعل يقول: "خَبَأْتُ هذا لك، خَبَأْتُ هذا لك" (3). هذا الحديث، مخرَّجٌ في كتاب مسلم (4)، وإنما أعدتُه ليُعلَمَ أنه كان يأتي مع أبيه النبيَّ ﷺ، وكان يَبَرُّه ويُطْعِمُه النبيُّ ﷺ (1). وقد حَفِظَ المسورُ خُطَبَ النبي ﷺ:
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قبائیں (لباس) آئیں جنہیں آپ ﷺ نے اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیا، تو میرے والد نے مجھ سے کہا: ”ہمارے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں چلو کیونکہ آپ ﷺ کے پاس قبائیں آئی ہیں،“ میرے والد نے دروازے پر گفتگو کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز پہچان لی، آپ ﷺ ایک قبا لے کر باہر تشریف لائے اور فرمانے لگے: ”میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی، میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“
یہ حدیث صحیح مسلم میں مروی ہے، میں نے اسے یہاں اس لیے دوبارہ ذکر کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ ﷺ ان کے ساتھ حسنِ سلوک فرماتے اور انہیں کھانا کھلاتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور یہ رقم (6189) پر مکرر آ چکی ہے۔
(4) في "صحيحه" برقم (1058) (130)، وكذا في "صحيح البخاري" برقم (2657)، كلاهما عن زياد بن يحيى الحسّاني عن حاتم بن وردان.
حوالہ / مصدر: یہ صحیح مسلم (1058) اور صحیح بخاری (2657) میں زیاد بن یحییٰ الحسانی عن حاتم بن وردان کے طریق سے موجود ہے۔
(1) قوله: "وكان يبره ويطعمه النبي ﷺ" سقط من (ز) و (ب)، وأثبتناه من (م) و (ص).
فنی نکتہ / علّت: جملہ "نبی ﷺ ان سے حسنِ سلوک کرتے اور انہیں کھانا کھلاتے تھے" نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط ہے، ہم نے اسے (م) اور (ص) کے مطابق درج کیا ہے۔