المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6351
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمود ابن خِدَاش، حدثنا عَبيدةُ (2) بن حُمَيد، حدثني إسماعيل بن أبي خالد، عن حفص ابن جابر (3) قال: لما مات الأشعثُ بنُ قيس قال الحسنُ بن علي: إذا غسَّلتُموه فلا تَهِيجُوه حتى تأتوني به، قال: به قال فأُتِيَ به، فدعا بحَنُوطٍ فوضَّأ به يدَيهِ ووجهه ورجلَيهِ، ثم قال: أَدرِجُوا (4). ذكرُ المِسوَر بن مَخرَمة الزُّهْري ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حفص بن جابر بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم انہیں غسل دے لو تو انہیں (کفن پہنا کر) حرکت نہ دینا یہاں تک کہ میں آ جاؤں،“ راوی کہتے ہیں کہ جب وہ تشریف لائے تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس سے ان کے ہاتھوں، چہرے اور پاؤں کا وضو کرایا اور پھر فرمایا: ”اب انہیں کفن میں لپیٹ دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية: عبدة، وهو خطأ، والتصويب من "إتحاف المهرة" (4298).
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں 'عبدہ' لکھا ہے جو غلط ہے، درست نام "اتحاف المہرہ" (4298) کے مطابق ہے۔
(3) هكذا وقع في النسخ الخطية و "إتحاف المهرة"، وهو خطأ، والصواب: حكيم بن جابر، كما في مصادر التخريج.
فنی نکتہ / علّت: نسخوں اور 'اتحاف المہرہ' کی یہ لکھاوٹ غلط ہے، درست نام 'حکیم بن جابر' ہے جیسا کہ دیگر مصادرِ تخریج میں مذکور ہے۔
(4) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق (6149)، وابن أبي شيبة 3/ 243 و 255، وأبو القاسم البغوي في "الجعديات" (2404)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (938)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 9/ 143 من طرق عن إسماعيل بن أبي خالد، عن حكيم بن جابر.
حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق (6149)، ابن ابی شیبہ، ابو القاسم بغوی "الجعدیات" (2404)، ابو نعیم اور ابن عساکر نے اسماعیل بن ابی خالد عن حکیم بن جابر کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: "أدرِجوا" کا مطلب ہے: اسے کفن میں داخل کر دو۔
أدرِجوا أي: أدخلوه في كفنه.
نوٹ / توضیح: "أَدْرِجُوا" کا مطلب ہے: اسے اس کے کفن میں داخل کرو/لپیٹ دو۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں 'عبدہ' لکھا ہے جو غلط ہے، درست نام "اتحاف المہرہ" (4298) کے مطابق ہے۔
(3) هكذا وقع في النسخ الخطية و "إتحاف المهرة"، وهو خطأ، والصواب: حكيم بن جابر، كما في مصادر التخريج.
فنی نکتہ / علّت: نسخوں اور 'اتحاف المہرہ' کی یہ لکھاوٹ غلط ہے، درست نام 'حکیم بن جابر' ہے جیسا کہ دیگر مصادرِ تخریج میں مذکور ہے۔
(4) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق (6149)، وابن أبي شيبة 3/ 243 و 255، وأبو القاسم البغوي في "الجعديات" (2404)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (938)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 9/ 143 من طرق عن إسماعيل بن أبي خالد، عن حكيم بن جابر.
حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق (6149)، ابن ابی شیبہ، ابو القاسم بغوی "الجعدیات" (2404)، ابو نعیم اور ابن عساکر نے اسماعیل بن ابی خالد عن حکیم بن جابر کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: "أدرِجوا" کا مطلب ہے: اسے کفن میں داخل کر دو۔
أدرِجوا أي: أدخلوه في كفنه.
نوٹ / توضیح: "أَدْرِجُوا" کا مطلب ہے: اسے اس کے کفن میں داخل کرو/لپیٹ دو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6351 سے ماخوذ ہے۔