المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6334
أخبرني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا سفيان بن حمزة الأسلَمي، عن كَثير بن زيد، عن محمد بن حمزة بن عمرو الأسلَمي، عن أبيه حمزة بن عمرو قال: كان يَدُور (1) طعامُ أصحاب رسولَ الله ﷺ على يَدَيْ أصحابه هذه الليلةَ، قال: فدارَ عليَّ، فصنعتُ طعامَ أصحابِ رسول الله ﷺ، فذهبتُ به إليه (2). قال سفيان بن حمزة: وكان حمزةُ بن عمرو الأسلمي يُكنى أبا محمد، مات سنةَ إحدى وستين، وهو ابن إحدى وسبعين سنةً.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا کھانا باری باری ان کے پاس پہنچتا تھا، ایک رات میری باری آئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں لے گیا۔ سفیان بن حمزہ کہتے ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی کی کنیت ابو محمد تھی اور ان کی وفات سن 61 ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر 71 برس تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في نسخنا الخطية: بدو، والمثبت من النسخة المحمودية -كما في طبعة الميمان- ومصادر التخريج، وهو الصواب.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں 'بدو' لکھا ہے جبکہ درست وہی ہے جو ہم نے نسخہ محمودیہ اور دیگر مصادر سے ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل كثير بن زيد الأسلمي وشيخه محمد بن حمزة.
درجۂ حدیث: کثیر بن زید الاسلمی اور محمد بن حمزہ کی وجہ سے یہ سند ان شاء اللہ 'حسن' قرار دی جا سکتی ہے۔
وأخرجه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه" (612)، والطبراني (2991) من طريق إبراهيم ابن حمزة الزبيري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی خیثمہ نے اپنی "تاریخ" (612) میں اور امام طبرانی (2991) نے ابراہیم بن حمزہ الزبیری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني (2991)، والبيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 112 من طريقين عن سفيان بن حمزة، به - بأطول ممّا هنا.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی اور بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (6/ 112) میں سفیان بن حمزہ کے دو طریقوں سے یہاں سے زیادہ طویل سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں 'بدو' لکھا ہے جبکہ درست وہی ہے جو ہم نے نسخہ محمودیہ اور دیگر مصادر سے ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل كثير بن زيد الأسلمي وشيخه محمد بن حمزة.
درجۂ حدیث: کثیر بن زید الاسلمی اور محمد بن حمزہ کی وجہ سے یہ سند ان شاء اللہ 'حسن' قرار دی جا سکتی ہے۔
وأخرجه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه" (612)، والطبراني (2991) من طريق إبراهيم ابن حمزة الزبيري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی خیثمہ نے اپنی "تاریخ" (612) میں اور امام طبرانی (2991) نے ابراہیم بن حمزہ الزبیری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني (2991)، والبيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 112 من طريقين عن سفيان بن حمزة، به - بأطول ممّا هنا.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی اور بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (6/ 112) میں سفیان بن حمزہ کے دو طریقوں سے یہاں سے زیادہ طویل سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6334 سے ماخوذ ہے۔