المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَجْهُ تَكْنِيَتِهِ بِأَبِي هُرَيْرَةَ باب: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی کنیت کی وجہ
حدیث نمبر: 6267
حدثني أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حَدَّثَنَا عمر بن حفص السَّدُوسي، حَدَّثَنَا عاصم بن علي، حَدَّثَنَا أبو مَعشَر، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يَدعُوني أبا هرٍّ، ويَدعُوني الناسُ أبا هُريرة (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھے ”ابو ہر“ کہہ کر مخاطب فرماتے تھے اور لوگ مجھے ”ابو ہریرہ“ کہتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر: وهو نَجيح بن عبد الرحمن السِّندي.
درجۂ حدیث: سابقہ شاہد کی بنیاد پر یہ 'حسن' ہے، اگرچہ اس کی اپنی سند ابو معشر (نجیح بن عبد الرحمن السندی) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
درجۂ حدیث: سابقہ شاہد کی بنیاد پر یہ 'حسن' ہے، اگرچہ اس کی اپنی سند ابو معشر (نجیح بن عبد الرحمن السندی) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6267 سے ماخوذ ہے۔