المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَقَدْ كَثُرَ الْخِلَافُ فِي اسْمِهِ ، وَاسْمِ أَبِيهِ باب: سیدنا ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ کا بیان - ان کے نام اور والد کے نام میں بہت اختلاف ہے
فحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: حدثني بعضُ أصحابي، عن أبي هريرة قال: كان اسمي في الجاهلية عبدَ شمسِ بنَ صَخْر، فسُمِّيتُ في الإسلام عبدَ الرحمن، وإنما كَنَّوني بأبي هريرة لأني كنت أَرعى غنمًا لأهلي، فوجدتُ أولادَ هِرٍّ وحشيّةٍ فجعلتُها في كُمِّي، فلما رُحْتُ عنهم وسُمِعَت أصواتُ الهرِّ من حِجْري، فقالوا: ما هذا يا عبدَ شمس؟ فقلت: أولادُ هرٍّ وجدتُها، قالوا: فأنت أبو هُريرة، فلَزِمَتني بعدُ (1). قال ابن إسحاق: وكان أبو هريرة وَسيطًا في دَوْسٍ حيث يحبُّ أن يكونَ منهم.
سیدنا ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا ذکر، ان کے اور ان کے والد کے نام میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبد شمس بن صخر تھا، پھر اسلام لانے پر میرا نام عبدالرحمن رکھا گیا، اور میری کنیت ابو ہریرہ اس وجہ سے پڑی کہ میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا، مجھے جنگلی بلی کے بچے ملے تو میں نے انہیں اپنی آستین میں ڈال لیا، جب میں واپس پلٹا اور میری گود سے بلی کے بچوں کی آوازیں سنی گئیں تو لوگوں نے پوچھا کہ اے عبد شمس! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ بلی کے بچے ہیں جو مجھے ملے ہیں، انہوں نے کہا کہ پھر تو تم ”ابو ہریرہ“ ہو، چنانچہ اس کے بعد یہ کنیت مجھ پر لازم ہو گئی۔“ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ دوس میں بہت معزز مقام رکھتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرنے والا راوی 'مبہم' (نا معلوم) ہے۔
وهو في "سيرة ابن إسحاق" برواية يونس برقم (445)، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 298.
حوالہ / مصدر: یہ روایت "سیرت ابن اسحاق" (بروایت یونس: 445) میں موجود ہے اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (67/ 298) میں اسے روایت کیا ہے۔
وأخرج الترمذي (3840) من طريق عبد الله بن رافع، عن أبي هريرة قال: كنت أرعى غنم أهلي، فكانت لي هريرة صغيرة فكنت أضعها بالليل في شجرة، فإذا كان النهار ذهبتُ بها معي ولعبت بها، فكنوني أبا هريرة. وحسَّنه الترمذي، وهو كما قال.
تفصیلِ روایت: امام ترمذی (3840) نے عبد اللہ بن رافع عن ابی ہریرہ کے طریق سے روایت کیا کہ: "میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میرے پاس ایک چھوٹی سی بلی (ہریرہ) تھی جسے میں رات کو درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اپنے ساتھ لے جاتا اور اس سے کھیلتا، اسی وجہ سے میری کنیت 'ابو ہریرہ' پڑ گئی"۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے 'حسن' قرار دیا ہے اور یہ ویسے ہی ہے۔