المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
فَضِيلَةُ مَكَّةَ عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ باب: مکہ مکرمہ کی فضیلت بیت المقدس پر
قال محمد بن عمر: فأخبَرني أَبي، عن يحيى بن عِمران بن عثمان بن الأرقَم قال: إني لأعلمُ اليومَ الذي وَقَعَ في نفس أبي جعفرٍ (1)؛ إنه يَسعَى بين الصَّفا والمَرْوة في حَجَّةٍ حجَّها، ونحن على ظَهْر الدار، فيمرُّ تحتَنا لو أَشَاءُ أن آخذَ قَلَنسُوَتَه لأخذتها، وإنه لينظُرُ إلينا من حِين يَهبِطُ الوادي حتَّى يصعدَ إلى الصَّفا، فلما خرج محمدُ بنُ عبد الله بن حَسَن بالمدينة كان عبدُ الله بن عثمان بن الأرقَم ممَّن بايَعَه ولم يَخرُجْ معه، فتعلَّقَ عليه أبو جعفر بذلك، فكتب إلى عاملِه بالمدينة أن يَحبِسَه ويَطرَحَه في الحديد، ثم بعث رجلًا من أهل الكوفة يقال له: شِهاب بن عبد ربٍّ، وكتب معه إلى عامله بالمدينة أن يفعلَ ما يَأمرُه، فدخل شِهاب على عبد الله بن عثمان الحبسَ وهو شيخٌ كبيرٌ ابن بِضْعٍ وثمانين سنة، وقد ضَجِرَ في الحديد والحبس، فقال: هل لك أن أخلِّصَك ممَّا أنت فيه وتبيعَني دارَ الأرقم؟ فإنَّ أمير المؤمنين يريدها، وعسى إن بِعتَه إياها أن أكلِّمَه فيك فيَعفُوَ عنك، قال: إنها صدقةٌ، ولكنْ حقِّي منها له، ومعي فيها شركاءُ إخْوتي وغيرُهم، فقال: إنما عليك نفسَك، أَعطِنا حقَّكَ وبَرِئتَ، فَأَشْهَدَ له وكَتَب عليه كتابَ شِرًى على سبعةَ عشرَ ألفَ دينار، ثم تتبَّع إخوتَه ففَتَنَهم كثرةُ المال فباعوه، فصارت لأبي جعفر ولمن أقطَعَها، ثم صيَّرها المهديُّ للخَيزُران أمَّ موسى وهارون، فبَنَتْها وعُرِفَت بها، ثم صارت لجعفر بن موسى الهادي، ثم سكنها أصحابُ الشَّطَوي والعَدَني، ثم اشترى عامَّتَها أو أكثرها غسّانُ بن عبّاد من ولد جعفر بن موسى، وأما دارُ الأرقم بالمدينة في بني زُرَيقٍ فَقَطِيعةٌ من النَّبِيّ ﷺ.
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے یحییٰ بن عمران بن عثمان بن ارقم کے حوالے سے بتایا کہ میں اس دن کو خوب جانتا ہوں جب ابو جعفر (منصور) کے دل میں اس گھر کو لینے کا خیال پیدا ہوا؛ وہ حج کے دوران صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہا تھا جبکہ ہم گھر کی چھت پر تھے، وہ ہمارے نیچے سے گزر رہا تھا کہ اگر میں چاہتا کہ اس کی ٹوپی اتار لوں تو اتار لیتا، وہ وادی میں اترنے سے لے کر صفا پر چڑھنے تک ہمیں دیکھتا رہا، پھر جب مدینہ میں محمد بن عبداللہ بن حسن (نفسِ زکیہ) نے خروج کیا تو عبداللہ بن عثمان بن ارقم نے ان کی بیعت کی تھی مگر ان کے ساتھ نکلے نہیں تھے، ابو جعفر نے اسی بات کو ان کے خلاف حجت بنایا اور مدینہ کے گورنر کو لکھا کہ انہیں قید کر کے بیڑیاں ڈال دی جائیں، پھر اس نے کوفہ کے ایک شخص شہاب بن عبد رب کو بھیجا اور گورنر کے نام خط لکھا کہ جو یہ کہے ویسا ہی کیا جائے، شہاب قید خانے میں عبداللہ بن عثمان کے پاس آیا جبکہ وہ اسی سال سے زیادہ عمر کے بوڑھے تھے اور بیڑیوں و قید سے اکتا چکے تھے، شہاب نے کہا: ”کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو اس مصیبت سے نجات دلا دوں اور آپ دارِ ارقم میرے ہاتھ بیچ دیں؟ کیونکہ امیر المومنین اسے لینا چاہتے ہیں، شاید اگر آپ اسے بیچ دیں تو میں آپ کے متعلق ان سے بات کروں اور وہ آپ کو معاف کر دیں،“ انہوں نے کہا: ”وہ تو وقف ہے، لیکن اس میں میرا جو حق ہے وہ اس کا ہوا، جبکہ اس میں میرے بھائی اور دیگر لوگ بھی شریک ہیں،“ شہاب نے کہا: ”آپ صرف اپنی فکر کریں، اپنا حق ہمیں دیں اور بری ہو جائیں،“ چنانچہ انہوں نے گواہ مقرر کیے اور سترہ ہزار دینار میں اپنا حصہ فروخت کرنے کا معاہدہ لکھ دیا، پھر شہاب نے ان کے بھائیوں کا پیچھا کیا اور مال کی کثرت نے انہیں فتنے میں ڈال دیا تو انہوں نے بھی اپنا حصہ بیچ دیا، یوں وہ گھر ابو جعفر کی ملکیت میں آگیا اور ان لوگوں کی جنہیں اس نے یہ بطورِ جاگیر دیا، پھر (خلیفہ) مہدی نے اسے موسیٰ اور ہارون کی والدہ خیزران کو دے دیا، اس نے اسے (نئے سرے سے) تعمیر کیا تو وہ انہی کے نام سے مشہور ہوا، پھر وہ جعفر بن موسیٰ الہادی کی ملکیت میں رہا، پھر اس میں شطوی اور عدنی کے اصحاب رہے، پھر اس کا اکثر حصہ غسان بن عباد نے جعفر بن موسیٰ کی اولاد سے خریدا، جہاں تک مدینہ میں بنو زریق میں واقع دارِ ارقم کا تعلق ہے تو وہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے دی گئی جاگیر تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں تحریف سے 'حفص' ہو گیا ہے، درست نام 'جعفر' ہے۔