حدیث نمبر: 6213
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن بِشْر، حَدَّثَنَا مَطَر، حَدَّثَنَا إسحاق بن أبي كامل، حَدَّثَنَا يعقوب بن إبراهيم بن سعد قال: سمعت … (1) يقول: سعدُ بن أبي وَقَّاص وعُميرٌ وعامرٌ وعتبة (2) إخوة، وأبو وقّاص: مالكُ بن أُهَيْب بن عبد مَنَاف بن الحارث بن زُهْرة (3).
حافظ طلحہ بابر

یعقوب بن ابراہیم بن سعد سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص، عمیر، عامر اور عتبہ آپس میں بھائی ہیں، اور ان کے والد ابو وقاص کا نام مالک بن اہیب بن عبد مناف بن الحارث بن زہرہ ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6213
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6213] [ترقيم الشركة 6151]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) بياض في النسخ الخطية، ولفظ "يقول" سقط من (ب).
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں کچھ جگہ خالی ہے اور لفظ "یقول" نسخہ (ب) سے ساقط ہے۔
(2) تحرَّف في (ب) إلى عقبة. وعتبة هذا مات كافرًا قبل فتح مكة، وأسلم ولداه نافع وهاشم. وأما عمير بن أبي وقاص، فقد مضى ذكره عند المصنّف برقم (4925)، واستشهد يوم بدر، وأما أخوه عامر فمن مهاجرة الحبشة، واستشهد يوم اليرموك على الصحيح كما قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 89.
ناموں کی تحقیق: نسخہ (ب) میں نام 'عقبہ' ہو گیا ہے جبکہ یہ 'عتبہ' ہے۔ عتبہ کفر کی حالت میں مرا، جبکہ اس کے بیٹوں نافع اور ہاشم نے اسلام قبول کیا۔
اہم نکتہ: عمیر بن ابی وقاص بدر میں شہید ہوئے (دیکھیں حدیث 4925) اور ان کے بھائی عامر ہجرتِ حبشہ والے صحابی ہیں جو صحیح قول کے مطابق یرموک میں شہید ہوئے (تاریخ الاسلام للذہبی 2/ 89)۔
(3) كذا وقع هنا بزيادة الحارث بين عبد مناف وزهرة، وهو خطأ، فعبد مناف والحارث أخوان، وهما ابنا زهرة: انظر "جمهرة أنساب العرب" لابن حزم ص 128 - 129.
فنی نکتہ / علّت: یہاں عبد مناف اور زہرہ کے درمیان 'الحارث' کا اضافہ غلط ہے؛ درست یہ ہے کہ عبد مناف اور حارث دونوں بھائی ہیں اور یہ دونوں زہرہ کے بیٹے ہیں (جمہرہ انساب العرب لابن حزم ص 128)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6213 سے ماخوذ ہے۔