حدیث نمبر: 6158
قال ابن عمر: وحدثنا ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، قال: قيل لحَكِيم بن حِزَام: ما المالُ يا أبا خالد؟ فقال: قِلَّةُ العيال (1). قال (2): وقَدِمَ حَكيمُ بن حِزَام المدينةَ، فنزلها، وبنَى بها دارًا، ومات بالمدينة سنة أربعٍ وخمسين وهو ابن مئة وعشرين سنة.
حافظ طلحہ بابر

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ابن ابی الزناد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اے ابو خالد! مال (کی اصل حقیقت) کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”اہل و عیال کی کمی (یعنی ذمہ داریوں کا کم ہونا)۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے، وہیں سکونت اختیار کی اور ایک گھر بنایا، اور ان کی وفات 54 ہجری میں مدینہ میں ہوئی جبکہ ان کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6158
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6158] [ترقيم الشركة 6098/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) أخرجه ابن سعد في "الطبقات" 6/ 56 عن الواقدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے واقدی کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) القائل هو محمد بن عمر الواقدي.
اہم نکتہ: اس کا قائل محمد بن عمر الواقدی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6158 سے ماخوذ ہے۔