المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَهُوَ رَاهِبُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَذِكْرُ مَقْتَلِهِ باب: سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان، جو اصحابِ محمد ﷺ کے عابد و زاہد تھے، اور ان کی شہادت کا ذکر
حدیث نمبر: 6088
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدل، حَدَّثَنَا معاذ بن المُثنّى بن معاذ بن معاذ العَنْبري، حدثني أبي، حَدَّثَنَا أبي، عن ابن عَوْن، عن نافعٍ قال: لما كان ليالي بَعْثِ حُجرٍ إلى معاوية، جعل الناس يتحيَّرون ويقولون ما فعل حُجْرٌ؟! فأتى خبرُه ابنَ عمر وهو مُحْتَبي في السُّوق، فأطلق حَبْوَتَه ووَثَبَ وانطَلَقَ، فجعلتُ أَسْمَعُ نَحِيبَه وهو مُوَلٍّ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5975 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا حجر رضی اللہ عنہ کو معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجے جانے کی راتیں تھیں تو لوگ حیران و پریشان ہو کر پوچھتے تھے کہ حجر کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟! جب ان (کی شہادت) کی خبر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پہنچی جبکہ وہ بازار میں گوٹھ مارے بیٹھے تھے، تو انہوں نے فوراً اپنی گوٹھ کھولی، اٹھ کھڑے ہوئے اور چل دیے، میں ان کے پیچھے سے ان کے رونے کی آواز سن رہا تھا جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. ابن عون: هو عبد الله بن عون بن أرطبان.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: ابن عون سے مراد عبد اللہ بن عون بن ارطبان ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: ابن عون سے مراد عبد اللہ بن عون بن ارطبان ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6088 سے ماخوذ ہے۔