المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَهُوَ رَاهِبُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَذِكْرُ مَقْتَلِهِ باب: سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان، جو اصحابِ محمد ﷺ کے عابد و زاہد تھے، اور ان کی شہادت کا ذکر
حدیث نمبر: 6086
حَدَّثَنَا أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، حَدَّثَنَا الهيثم بن خَلَف الدُّوري، حَدَّثَنَا أبو كُرَيب، حَدَّثَنَا يحيى بن آدم، عن أبي بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن زياد بن عِلاقَة قال: رأيتُ حُجْر بن الأدْبَر حين أَخرَجَ به زيادٌ إلى معاوية، ورِجلاه من جانبٍ وهو على بعير (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5973 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
زیاد بن علاقہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا حجر بن ادبر رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا جب زیاد انہیں (قید کر کے) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لے جا رہا تھا، وہ ایک اونٹ پر سوار تھے اور ان کی دونوں ٹانگیں ایک ہی طرف لٹک رہی تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش. أبو كريب: هو محمد بن العلاء، والأعمش: هو سليمان بن مهران.
درجۂ حدیث: ابوبکر بن عیاش کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
اہم نکتہ: ابو کریب سے مراد محمد بن العلاء ہیں اور الاعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 1/ 221 وابن العديم في "تاريخ حلب" 5/ 2128 من طريقين عن أبي كريب بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (1/ 221) میں اور ابن العدیم نے "تاریخ حلب" (5/ 2128) میں ابو کریب کے واسطے سے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: ابوبکر بن عیاش کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
اہم نکتہ: ابو کریب سے مراد محمد بن العلاء ہیں اور الاعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 1/ 221 وابن العديم في "تاريخ حلب" 5/ 2128 من طريقين عن أبي كريب بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (1/ 221) میں اور ابن العدیم نے "تاریخ حلب" (5/ 2128) میں ابو کریب کے واسطے سے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6086 سے ماخوذ ہے۔