المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
تَحَرُّزُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ عَنِ الْفِتْنَةِ باب: فتنہ کے وقت سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا کنارہ کش رہنا
قال ابن عُمر: كان محمد بن مَسلَمة يُكنى أبا عبد الرحمن أسلمَ بالمدينة على يد مُصعب بن عُمَير قبل إسلام أُسَيد بن الحُضَير وسعد بن مُعاذ، وآخَى رسولُ الله ﷺ بينَه وبين أبي عُبيدة بن الجَرّاح، وشهد بدرًا وأحُدًا، وكان فيمن ثَبَتَ يومَ أُحُد مع رسول الله ﷺ حين ولَّى الناسُ، وشَهِدَ الخندقَ والمشاهدَ مع رسول الله ﷺ، ما خلا تَبوكَ؛ فإنَّ رسول الله ﷺ خَلَّفَه بالمدينة حين خَرَج إليها، وكان فيمن قَتَل كعبَ بن الأَشرفِ (2).
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ”ابو عبد الرحمن“ تھی، آپ مدینہ منورہ میں سیدنا اسید بن حضیر اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما سے بھی پہلے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لائے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ (مواخات) قائم فرمایا تھا، وہ غزوۂ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور احد کے دن ان لوگوں میں شامل تھے جو لوگوں کے پیچھے ہٹ جانے کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، آپ غزوۂ خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے سوائے غزوۂ تبوک کے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک کی روانگی کے وقت انہیں مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا تھا، اور آپ کعب بن اشرف کو قتل کرنے والوں میں بھی شامل تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: دیکھیں: "الطبقات الكبرى" ابن سعد (3/ 408-409)۔
والصحيح أن النبي ﷺ استخلف على المدينة مَخرجَه إلى تبوكَ عليَّ بن أبي طالب كما تقدَّم من حديث سعد بن أبي وقاص برقم (4626)، وهو عند البخاري (4416)، ومسلم (2404).
اہم نکتہ: صحیح بات یہ ہے کہ نبی ﷺ نے تبوک جاتے وقت مدینہ پر علی بن ابی طالب کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، جیسا کہ سعد بن ابی وقاص کی حدیث سے نمبر (4626) پر گزر چکا، اور یہ بخاری (4416) اور مسلم (2404) میں موجود ہے۔
وقصة مشاركته في قتل كعب بن الأشرف ستأتي عند المصنف موصولةً قريبًا برقم (5952) و (5953).
نوٹ / توضیح: کعب بن اشرف کے قتل میں ان کی شرکت کا قصہ مصنف کے ہاں عنقریب "موصول" سند کے ساتھ نمبر (5952) اور (5953) پر آئے گا۔