مستدرکِ حاکم
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
فحدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا إبراهيم بن جعفر، عن أبيه، قال: مات محمدُ ابن مَسْلَمة بالمدينة سنة ستٍّ وأربعين، وهو يومئذ ابن سبع وسبعين سنةً وكان طويلًا أصلَعَ (1).
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں سن 46 ہجری میں ہوا، وہ اس وقت ستتر سال کے تھے اور آپ طویل القامت (دراز قد) اور سر سے گنجے تھے۔
قال ابن عُمر: كان محمد بن مَسلَمة يُكنى أبا عبد الرحمن أسلمَ بالمدينة على يد مُصعب بن عُمَير قبل إسلام أُسَيد بن الحُضَير وسعد بن مُعاذ، وآخَى رسولُ الله ﷺ بينَه وبين أبي عُبيدة بن الجَرّاح، وشهد بدرًا وأحُدًا، وكان فيمن ثَبَتَ يومَ أُحُد مع رسول الله ﷺ حين ولَّى الناسُ، وشَهِدَ الخندقَ والمشاهدَ مع رسول الله ﷺ، ما خلا تَبوكَ؛ فإنَّ رسول الله ﷺ خَلَّفَه بالمدينة حين خَرَج إليها، وكان فيمن قَتَل كعبَ بن الأَشرفِ (2).
محمد بن عمر (واقدی) سے روایت ہے کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ”ابو عبد الرحمن“ تھی، آپ مدینہ منورہ میں سیدنا اسید بن حضیر اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما سے بھی پہلے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لائے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ (مواخات) قائم فرمایا تھا، وہ غزوۂ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور احد کے دن ان لوگوں میں شامل تھے جو لوگوں کے پیچھے ہٹ جانے کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، آپ غزوۂ خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے سوائے غزوۂ تبوک کے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک کی روانگی کے وقت انہیں مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا تھا، اور آپ کعب بن اشرف کو قتل کرنے والوں میں بھی شامل تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: یہ "الطبقات الكبرى" ابن سعد (3/ 409 اور 410) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔