حدیث نمبر: 5942
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: لما افتَتَح عبدُ الرحمن بن سَمُرة بن حَبيب سِجِسْتانَ وكان معه أبو رِفاعةَ عبدُ الله بن الحارث بن عبد الحارث بن الحارث بن أسَد بن عَدِيّ بن مالك بن تَميم بن الدُّؤَل بن حَمَل (1) بن عَديّ بن عبد مَنَاةِ بن أُدّ بن طابِخَةَ، وله صحبةٌ، فسارَ في الجيش، فلما كان في الليل قام يُصلِّي، ثم رَقَد في آخر الليل ونَسِيَه أصحابُه، فأتاهُ نفرٌ من العَدوِّ فذبَحُوه (2). ذكر مناقب عُقْبة بن الحارث القرشي ﵁ -
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو رفاعہ عبد اللہ بن الحارث العدوی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا ذکر: جب عبد الرحمن بن سمرہ بن حبیب نے سجستان فتح کیا تو سیدنا ابو رفاعہ عبد اللہ بن الحارث ان کے ساتھ تھے، وہ صحابیِ رسول ہیں، وہ لشکر کے ساتھ چلے، جب رات ہوئی تو وہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر رات کے آخری حصے میں وہ سو گئے اور ان کے ساتھی انہیں (وہیں سوتا ہوا) بھول گئے، چنانچہ دشمنوں کے ایک گروہ نے آ کر انہیں وہیں ذبح کر دیا (شہید کر دیا)۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5942
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5942] [ترقيم الشركة 5883]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هكذا جاء في نسخنا الخطّية بالحاء المهملة ثم الميم بعدها لام، وفي أكثر مصادر النسب تسمية هذا الرجل جَلّ، بالجيم المعجمة المفتوحة ثم اللام. انظر "تاج العروس" 28/ 219 مادة (جلل).
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام "حمل" (حاء، میم اور لام کے ساتھ) آیا ہے، جبکہ اکثر کتبِ انساب میں اس شخص کا نام "جَلّ" (جیم مفتوح اور لام کے ساتھ) ہے۔ دیکھیں: "تاج العروس" (28/ 219، مادہ: جلل)۔
(2) وانظر "طبقات ابن سعد" 9/ 67 - 68 فقد روى قصة استشهاده عن عبد الرحمن بن سَمُرة بسند رجاله ثقات لكنه مرسلٌ.
حوالہ / مصدر: "طبقات ابن سعد" (9/ 67-68) دیکھیں، انہوں نے عبدالرحمن بن سمرہ سے ان کی شہادت کا قصہ ایسی سند سے روایت کیا ہے جس کے رجال ثقہ ہیں لیکن وہ "مرسل" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5942 سے ماخوذ ہے۔