المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
شَهَادَةُ عُمَيْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ باب: سیدنا عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ کی بدر کے دن شہادت
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْرِيّ، حدثنا أبو النَّضْر، حدثنا سليمان بن المُغيرة، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ يومَ بدر: "قوموا إلى جَنَّةٍ عَرضُها السماواتُ والأرضُ" قال: يقول عُمير بن الحُمَام الأنصاري: يا رسول الله، عرضُها السماواتُ والأرضُ، بَخٍ بَخٍ، لا واللهِ يا رسولَ الله، لا بُدّ أن أكُونَ من أهلِها؟ قال: "فإنك من أهلها"، فأخرجَ تُميراتٍ فجعل يأكُل، ثم قال: لَئِن حَيِيتُ حتى أكُلَ تَمَراتي إنها لحياةٌ طويلةٌ، قال: فرَمَى بما كان معه من التمر، ثم قاتَلَهم حتى قُتِل (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه! ذكرُ مناقب خِرَاش بن الصِّمَّة بن عَمرو بن الجَمُوح ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5798 - على شرط مسلمسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے دن فرمایا: ”اس جنت کی طرف اٹھو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ اس پر سیدنا عمیر بن الحمام انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ واہ واہ! (بخ بخ)، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! کیا میں اس کے رہنے والوں میں سے ہوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ تم اس کے رہنے والوں میں سے ہو۔“ پھر انہوں نے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانے لگے، پھر کہنے لگے: اگر میں اپنی ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ تو بہت طویل زندگی ہو جائے گی، راوی کہتے ہیں کہ چنانچہ انہوں نے اپنے پاس موجود کھجوریں پھینک دیں اور دشمن سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابو النضر سے مراد ہاشم بن القاسم البغدادی اور ثابت سے مراد ابن اسلم البنانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12398)، ومسلم (1901) من طريق أبي النضر هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (19/ 12398) اور مسلم (1901) نے ابو النضر ہاشم بن القاسم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا اس کا استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔