المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا معاذ بن عمرو بن الجموح رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5909
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة بن خيّاط، قال: ومعاذ بن عمرو بن الجَمُوح أصابتْه نَكْبةٌ يوم بدرٍ، فبقي عَلِيلًا إلى عهد عثمان، ثم توفي بالمدينة سنة أربعٍ وعشرين (1)، وصلَّى عليه عثمان بن عفّان، ودُفن بالبَقِيع.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے دن زخمی ہوئے تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد تک مسلسل صاحبِ فراش (بیمار) رہے، پھر سن 24 ہجری میں مدینہ منورہ میں آپ کی وفات ہوئی، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز) و (ب): أربع عشرة، وهو خطأ صريحٌ، لذلك ضبب في (ز) فوقها، والمثبت على الصواب من (ص) و (م).
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "چودہ" لکھا ہے، جو کہ صریح غلطی ہے، اس لیے (ز) میں اس پر نشان لگایا گیا ہے۔ صحیح متن (ص) اور (م) سے لیا گیا ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "چودہ" لکھا ہے، جو کہ صریح غلطی ہے، اس لیے (ز) میں اس پر نشان لگایا گیا ہے۔ صحیح متن (ص) اور (م) سے لیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5909 سے ماخوذ ہے۔