المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَفْرَضُ النَّاسِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَإِنَّهُ تَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ باب: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ فرائض کے عالم تھے اور انہوں نے سریانی زبان سیکھی
حدیث نمبر: 5891
حدثنا الإمام أبو الوليد وأبو بكر بن قُريش قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جَرير، عن الأعمَش، عن ثابت بن عُبيد، عن زيد بن ثابت قال: قال رسول الله ﷺ: "أتُحسِنُ السُّرْيانيّة؟ " فقلت: لا، قال: "فتَعلَّمْها، فإنه يأتينا كتبٌ"، فتعلمتُها في سبعةَ عشرَ يومًا. قال الأعمشُ: كانت تأتيه كتبٌ لا يشتهي أن يَطّلعَ عليها إِلَّا مَن يَثِقُ به (1). صحيحٌ إن كان ثابت بن عُبيد سمعَه من زيد بن ثابت (2)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5781 - صحيح إن كان ثابت سمعه من زيدحافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا تم سریانی زبان جانتے ہو؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے سیکھ لو کیونکہ ہمارے پاس بہت سے خطوط آتے ہیں“، چنانچہ میں نے صرف سترہ دنوں میں اسے سیکھ لیا۔ اعمش کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس ایسے خطوط آتے تھے جنہیں آپ صرف اسی شخص کو دکھانا پسند فرماتے تھے جس پر آپ کو مکمل اعتماد ہو۔
یہ حدیث صحیح ہے بشرطیکہ ثابت بن عبید نے اسے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد والأعمش: هو سليمان بن مِهْران.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ جریر سے مراد ابن عبدالحمید اور اعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وأخرجه أحمد 35/ (21587)، وأخرجه ابن حبان (7136) من طريق يوسف بن موسى، كلاهما (أحمد ويوسف بن موسى) عن جرير بن عبد الحميد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (35/ 21587) اور ابن حبان (7136) نے یوسف بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (احمد اور یوسف) جریر بن عبدالحمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وقد تقدَّم بنحوه من وجه آخر عن زيد بن ثابت برقم (254).
نوٹ / توضیح: یہ زید بن ثابت سے ایک اور طریقے سے نمبر (254) پر گزر چکا ہے۔
(2) وقد جزم البخاري في "تاريخه الكبير" 2/ 166 بسماعه من زيد بن ثابت، وهو مولاه.
اہم نکتہ: بخاری نے "التاریخ الکبیر" (2/ 166) میں اس بات کا یقین ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت سے سماع کیا ہے، اور وہ ان کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ جریر سے مراد ابن عبدالحمید اور اعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وأخرجه أحمد 35/ (21587)، وأخرجه ابن حبان (7136) من طريق يوسف بن موسى، كلاهما (أحمد ويوسف بن موسى) عن جرير بن عبد الحميد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (35/ 21587) اور ابن حبان (7136) نے یوسف بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (احمد اور یوسف) جریر بن عبدالحمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وقد تقدَّم بنحوه من وجه آخر عن زيد بن ثابت برقم (254).
نوٹ / توضیح: یہ زید بن ثابت سے ایک اور طریقے سے نمبر (254) پر گزر چکا ہے۔
(2) وقد جزم البخاري في "تاريخه الكبير" 2/ 166 بسماعه من زيد بن ثابت، وهو مولاه.
اہم نکتہ: بخاری نے "التاریخ الکبیر" (2/ 166) میں اس بات کا یقین ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت سے سماع کیا ہے، اور وہ ان کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5891 سے ماخوذ ہے۔