حدیث نمبر: 5809
حدثني أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مَطَر العَدْل الزاهد - وأنا سألتُه - حدثنا أبو خُبيب العباس بن أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو بكر عَبد الله بن عُبيد الله الطَّلْحي، حدثنا عَبد الله بن محمد بن إسحاق بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله، حدثني أبو حُذيفة الحُصين بن حُذيفة بن صَيْفِيّ بن صُهيب، عن أبيه، عن جده [عن] (1) صُهيب، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول في المُهاجرين الأَوّلين: "هُم السابِقُون الشافِعُون المُدِلُّون على ربِّهم ﵎، والذي نفسي بيده، إنهم لَيأتُون يوم القيامة وعلى عواتقهم السِّلاحُ، فَيَقرَعُون بابَ الجنة، فتقول لهم الخَزَنةُ: مَن أنتُم؟ فيقولون: نحن المُهاجرون، فتقول لهم الخَزَنةُ: هل حُوسِبتُم؟ فيَجْثُون على رُكَبِهم، ويَنثُرون ما في جِعابِهم، ويَرفعُون أيديَهم إلى السماء، فيقولون: أيْ ربِّ، وبماذا نُحاسَب؟ فقد خَرجْنا وتَركْنا الأهلَ والمالَ والولدَ! فيُمثِّل اللهُ لهم أجنحةً من ذهَب مُخوَّصةً بالزَّبَرْجَد والياقوت، فيَطِيرون حتى يَدخُلوا الجنةَ، فذلك قوله: ﴿وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ﴾ الآية إلى ﴿لُغُوبٍ﴾ [فاطر: 34 - 35] ". قال حُذيفة: قال صَيفِيّ: قال صُهيب: قال رسول الله ﷺ: "فلَهُم بمَنازِلهم في الجنة أعرَفُ منهم بمنَازلِهم في الدُّنيا" (1). غريب الإسناد والمتن، ذكرتُه في مناقب صُهيب لأنه من المُهاجرين الأوَّلين، والراوي للحديث أعقابُه، والحديثُ لأصحابه، ولم نكتبه في الدنيا إلَّا عن شيخِنا الزاهدِ أبي عَمرو ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5704 - بل كذب وإسناده مظلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اولین مہاجرین کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: ”وہ لوگ سبقت لے جانے والے، شفاعت کرنے والے اور اپنے رب پر ناز کرنے والے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ ان کے کندھوں پر اسلحہ ہوگا، پھر وہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو جنت کے پہرے دار ان سے پوچھیں گے: تم کون ہو؟ وہ کہیں گے: ہم مہاجرین ہیں، پہرے دار پوچھیں گے: کیا تمہارا حساب ہو چکا؟ تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور اپنے ترکش خالی کر دیں گے اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارا کس بات کا حساب ہوگا؟ ہم تو سب کچھ چھوڑ کر آئے، اپنے گھر بار، مال اور اولاد سب کو چھوڑ آئے! تب اللہ تعالیٰ ان کے لیے سونے کے ایسے پر بنا دے گا جن میں زبرجد اور یاقوت جڑے ہوں گے، وہ اڑ کر جنت میں داخل ہو جائیں گے، یہی اللہ کے اس فرمان کا مطلب ہے: ﴿وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ﴾ [سورة فاطر: 34-35]“۔ حذیفہ (راوی) کہتے ہیں کہ صیفی نے بیان کیا کہ صہیب نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ان کے لیے ان کے ٹھکانے اس سے بھی زیادہ پہچانے ہوئے ہوں گے جتنا وہ دنیا میں اپنے گھروں کو پہچانتے تھے“۔
یہ حدیث سند اور متن کے اعتبار سے غریب ہے، میں نے اسے صہیب کے مناقب میں اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ وہ اولین مہاجرین میں سے ہیں اور اس کے راوی ان کی اپنی اولاد ہیں، ہم نے یہ حدیث صرف اپنے شیخ زاہد ابو عمرو رحمہ اللہ سے لکھی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5809
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرَّة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرَّة، عَبدُ الله بن محمد بن إسحاق بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله، كذا سُمِّي في هذه الرواية التي عند الحاكم! وهو وهمٌ ممّن دون أبي بكر عَبد الله بن عبيد الله الطَّلْحي، وإنما هو عُبيد الله بن إسحاق بن محمد بن عمران بن موسى بن طلحة ...» [ترقيم الرساله 5809] [ترقيم الشركة 5754] [ترقيم العلميه 5704]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حرف "عن" سقط نسخنا الخطية، ولا بد من إثباته كما يدل عليه آخر الحديث، حيث بيَّن فيه أبو حذيفة الحُصين بن حُذيفة رجالَ إسناده مُسمَّين بأسمائهم، فقال: قال حذيفة - يعني أباه - قال: صيفي، قال صهيب. فاقتضى ذلك أن حذيفة بن صَيفيّ بن صهيب روى الخبر عن أبيه صيفيِّ عن جَدِّه صُهيب، وليس عن جده مباشرة. وانظر ما تقدَّم برقم (5803/ 3).
نوٹ / توضیح: حرف "عن" ہمارے قلمی نسخوں سے گر گیا ہے، جسے ثابت کرنا ضروری ہے کیونکہ حدیث کا آخری حصہ اس پر دلالت کرتا ہے، جہاں ابو حذیفہ الحصین بن حذیفہ نے اپنے رجالِ سند کا نام بہ نام ذکر کیا اور کہا: "حذیفہ (یعنی ان کے والد) نے کہا، صیفی نے کہا، صہیب نے کہا۔" اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حذیفہ بن صیفی بن صہیب نے یہ خبر اپنے والد صیفی سے اور انہوں نے اپنے والد (حذیفہ کے دادا) صہیب سے روایت کی ہے، نہ کہ حذیفہ نے براہِ راست اپنے دادا سے۔ پچھلا نمبر (5803/ 3) دیکھیں۔
(1) إسناده ضعيف بمرَّة، عَبدُ الله بن محمد بن إسحاق بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله، كذا سُمِّي في هذه الرواية التي عند الحاكم! وهو وهمٌ ممّن دون أبي بكر عَبد الله بن عبيد الله الطَّلْحي، وإنما هو عُبيد الله بن إسحاق بن محمد بن عمران بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله، فهو والد عَبد الله بن عُبيد الله الطَّلْحي، وقد سُمّي على الصواب في رواية أبي نُعيم الأصبهاني لهذا الخبر في "حلية الأولياء" 1/ 156 من طريق جعفر بن أبي الحسن الخُوارِيّ (وتحرَّف في المطبوع إلى: الخوارزمي) عن عَبد الله بن عُبيد الله الطَّلحي بهذا الإسناد، ونصّ فيه أنه عن أبيه عبيد الله، وعبيدُ الله بن إسحاق هذا قال أبو حاتم كما في "الجرح والتعديل" 5/ 308: ليس بالقوي، وحذيفةُ بن صَيْفي مجهول لم يرو عنه غير ابنه الحُصين، وقال الذهبي في "تلخيصه": كذبٌ، وإسناده مُظلِم.
درجۂ حدیث: اس کی سند یکسر ضعیف (کمزور ترین) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حاکم کی اس روایت میں راوی کا نام "عبداللہ بن محمد بن اسحاق..." لکھا ہے جو کہ وہم ہے (غلطی ہے)۔ صحیح نام "عبیداللہ بن اسحاق بن محمد بن عمران بن موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ" ہے، اور یہ عبداللہ بن عبیداللہ الطلحی کے والد ہیں۔ ابو نعیم کی "حلية الأولياء" (1/ 156) میں درست نام ذکر کیا گیا ہے۔ عبیداللہ بن اسحاق کے بارے میں ابو حاتم نے "الجرح والتعديل" (5/ 308) میں کہا: "یہ قوی نہیں ہیں۔" اور حذیفہ بن صیفی "مجہول" ہیں جن سے سوائے ان کے بیٹے حصین کے کسی نے روایت نہیں کی۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اسے "جھوٹ" اور اس کی سند کو "تاریک" (مظلم) قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5809 سے ماخوذ ہے۔