مستدرکِ حاکم
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ الْجُمَحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا قدامہ بن مظعون بن حبیب بن وہب جمحی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُستَهْ، حدثنا سليمان أبو أيوب، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني قُدامة بن موسى، عن عائشة بنت قُدامة، قالت: توفي قُدامة بن مَظعُون سنةَ ستٍّ وثلاثين، وهو ابن ثَمانٍ وسِتّين سنةً، وكان لا يُغيِّر شَيْبَه (2).
عائشہ بنت قدامہ سے روایت ہے کہ سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات سن 36 ہجری میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر اڑسٹھ برس تھی اور وہ اپنے سفید بالوں کا خضاب سے رنگ تبدیل نہیں کرتے تھے۔
قال ابن عُمر: وهو قُدامة بن مَظْعُون بن حبيب بن جُمَح بن عمرو بن هُصَيص بن كعب بن لُؤي، أسلمَ قبل دخولِ رسولِ الله ﷺ دارَ الأرقم، وقبل أن يدعوَ فيها، وهو أخو عثمان بن مَظعُون، وهاجَرَ قُدامةُ إلى أرض الحَبَشة الهِجرةَ الثانيةَ، وكانت تحتَه صفيةُ بنتُ الخَطّاب، أختُ عمر بن الخطّاب، وشهد قُدامةُ بدرًا وأحدًا والخَندقَ والمَشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (3). ذكرُ مناقب حُذيفة بن اليَمَان ﵁ - وإنما هو حُذَيفة بن حُسَيل، وحُدَيفةُ صاحبُ سرِّ رسولِ الله ﷺ.
ابن عمر (محمد بن عمر واقدی) کہتے ہیں کہ وہ قدامہ بن مظعون بن حبیب جمحی ہیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں داخل ہونے اور وہاں (علانیہ) دعوت شروع کرنے سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا، وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں، سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی تھی، ان کے نکاح میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بہن صفیہ بنت خطاب تھیں، اور سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام معرکوں میں شریک رہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: (2) یہ ابن سعد کی "طبقات" 3/ 372 میں محمد بن عمر (واقدی) سے ہے، لیکن انہوں نے کہا: "عن قدامہ بن موسیٰ عن ابیہ عن عائشہ بنت قدامہ"۔
فنی نکتہ / علّت: پس انہوں نے اس میں قدامہ کے والد "موسیٰ" کا اضافہ کیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن سعد، واقدی کے بارے میں سلیمان ابو ایوب (ابن داؤد الشاذکونی) سے زیادہ ثقہ ہیں۔ اور یہ موسیٰ "ابن عمر بن قدامہ بن مظعون" ہیں۔