المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
انْصِرَافُ طَلْحَةَ عَنْ مَعْرَكَةِ الْجَمَلِ باب: سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا جنگِ جمل سے الگ ہو جانا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسِي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هشام بن يوسف، عن عبد الله بن مصعب، أخبرني موسى بن عُقبة، قال: سمعتُ علقمة بن وَقّاص قال: لما خرج طلحةُ والزبيرُ وعائشةُ لِطَلب دمِ عُثمان، عَرَضُوا مَن معهم بذاتِ عِرْق، فاستَصْغَروا عُرُوةَ بن الزُّبَير وأبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، فردُّوهُما. قال: ورأيتُه (2) وأحبُّ المجالس إليه أخْلاها، وهو ضاربٌ بلِحيتِه على زَوْرِه، فقلت له: يا أبا مُحمّد، إني أراكَ وأحبُّ المجالسِ إليك أخلاها، وأنتَ ضارِبٌ بلِحيتِك على زَوْرِك، إن كنت تَكرهُ هذا اليومَ فدَعْه، فليس يُكرِهُك عليه أحدٌ؟ قال: يا علقمةَ بنَ وقّاص، لا تَلُمْني، كنا يدًا واحدةً على مَن سِوانا، فأصبَحُوا اليومَ جَبَلين يَزحَفُ أحدُنا إلى صاحبِه، ولكنه كان مِنّي في أمرٍ عُثمانَ ما لا أَرى كَفَّارتَه إلَّا أن يُسفَكَ دمي في طلبِ دمِه، قلت: فمحمدُ بن طلحة لِمَ تُخرِجُه ولك ولدٌ صِغارٌ؟! دَعْهُ، فإن كان أمرًا خَلَفَك في تَرِكَتِك، قال: هو أعلمُ، أكرَهُ أن أَرَى أحدًا له في هذا الأمر نيّةٌ فأَرُدَّه، فكلّمتُ محمدَ بنَ طلحة في التّخلُّف، فقال: أكرَهُ أن أسألَ الرِّجال عن أَبي (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5595 - سنده جيدعلقمہ بن وقاص روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے نکلے، تو انہوں نے ”ذات عرق“ کے مقام پر اپنے لشکر کا معائنہ کیا، وہاں انہوں نے عروہ بن زبیر اور ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کو کم عمر پا کر واپس بھیج دیا۔ علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ تنہائی کو سب سے زیادہ پسند کر رہے تھے اور اپنی داڑھی کو اپنے سینے پر رکھے (فکر مند) بیٹھے تھے، میں نے ان سے عرض کی: ”اے ابو محمد! میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کو تنہائی سب سے زیادہ محبوب لگ رہی ہے اور آپ اپنی داڑھی سینے پر رکھے ہوئے ہیں، اگر آپ کو آج کا یہ دن ناپسند ہے تو اسے چھوڑ دیں، آپ کو اس پر کوئی مجبور نہیں کر رہا۔“ انہوں نے فرمایا: ”اے علقمہ بن وقاص! مجھے ملامت نہ کرو، ہم دوسروں کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے لیکن آج ہم دو پہاڑوں کی مانند ہو گئے ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے ساتھی پر حملہ آور ہے، لیکن عثمان (رضی اللہ عنہ) کے معاملے میں مجھ سے جو کوتاہی ہوئی اس کا کفارہ مجھے سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ ان کے خون کے قصاص کی طلب میں میرا اپنا خون بہا دیا جائے۔“ میں نے عرض کی: ”پھر آپ اپنے صاحبزادے محمد بن طلحہ کو اپنے ساتھ کیوں لے جا رہے ہیں جبکہ آپ کے بچے چھوٹے ہیں؟ انہیں چھوڑ دیں تاکہ وہ آپ کے پیچھے آپ کے ترکے کی دیکھ بھال کریں“، انہوں نے جواب دیا: ”وہ خود بہتر جانتے ہیں، میں اسے پسند نہیں کرتا کہ جس کی اس معاملے میں (جہاد کی) نیت ہو اسے روک دوں۔“ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن طلحہ سے پیچھے رہ جانے کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا: ”مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں لوگوں سے اپنے والد کے بارے میں پوچھتا پھروں (یعنی میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (2) ضمیر طلحہ بن عبید اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔
(1) إسناده حسن، وجوَّده الذهبي في "تلخيصه"، وقد سلف برقم (4657).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "حسن" ہے، اور ذہبی نے "تلخیص" میں اسے جید (عمدہ) قرار دیا ہے، اور یہ نمبر (4657) پر گزر چکی ہے۔