حدیث نمبر: 5437M
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسِي، حدَّثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حدثني إبراهيم بن سعد، عن صالح بن كَيسان، عن ابن شِهاب، عن سالم، قال: قلتُ لعبد الله بن عمر (2).
حافظ طلحہ بابر

سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5437M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5437M] [ترقيم الشركة 5393]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا جاء هذا الإسناد في النسخ الخطية، ولا صلة له بما بعده ولا بما قبله، ولا بد أن يكون موضوعه في أمر يتصل بمناقب عبد الرحمن بن عوف، وإذا كان الأمر كذلك يتبيَّن لنا أنَّ المصنف ﵀ أراد - والله أعلم - الخبر الذي أخرجه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 319 من طريق إبراهيم بن سعد، عن صالح بن كيسان، قال: قال ابن شهاب، أخبرني سالم بن عبد الله، أنَّ عبد الله بن عمر قال: دخل الرهطُ على عمر قُبيل أن ينزل به؛ عبد الرحمن بن عوف وعثمان وعليٌّ والزبير وسعد، فنظر إليهم، فقال: إني قد نظرتُ لكم في أمر الناس، فلم أجد عند الناس شقاقًا إلا أن يكون فيكم، فإن كان شقاق فهو فيكم، وإنما الأمر إلى ستة، إلى عبد الرحمن وعثمان وعلي والزبير وطلحة وسعد، وكان طلحة غائبًا … فذكر قصةً وفي آخرها: قال ابن شهاب: قال سالم: قلتُ لعبد الله: أَبَدأ بعبد الرحمن قبل عليٍّ؟ قال: نعم والله. ورجاله ثقات.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ سند اسی طرح لکھی گئی ہے، لیکن اس کا نہ تو پچھلی عبارت سے کوئی ربط ہے اور نہ اگلی عبارت سے۔ یقیناً اس کا موضوع عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق ہونا چاہیے۔ اگر معاملہ ایسا ہے، تو ہمارے نزدیک مصنف رحمۃ اللہ علیہ کی مراد (واللہ اعلم) وہ روایت ہے جسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 319) میں ابراہیم بن سعد، عن صالح بن کیسان، عن ابن شہاب، عن سالم بن عبداللہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں: حضرت عمر کی وفات سے کچھ قبل ایک جماعت ان کے پاس آئی جس میں عبدالرحمن بن عوف، عثمان، علی، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں نے خلافت کے معاملے میں غور کیا تو لوگوں میں کوئی اختلاف نہیں پایا سوائے اس کے جو تمہارے درمیان ہو سکتا ہے۔ معاملہ صرف ان چھ (6) افراد کے سپرد ہے: عبدالرحمن، عثمان، علی، زبیر، طلحہ اور سعد۔" (طلحہ اس وقت غائب تھے)۔ قصے کے آخر میں سالم کہتے ہیں: میں نے عبداللہ (بن عمر) سے پوچھا: "کیا انہوں نے علی سے پہلے عبدالرحمن کا نام لیا؟" تو انہوں نے کہا: "ہاں، اللہ کی قسم۔"
درجۂ حدیث: اس کے رجال (راوی) ثقہ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5437 سے ماخوذ ہے۔