حدیث نمبر: 5347
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحَبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن أبيه، عن جدَّه، عن عائشة قالت: قَدِمْنا من سفر فتُلقِّينا بذي الحُلَيفة، وكان غلمانُ الأنصارِ يَتَلقَّون بهم إذا قَدِمُوا، فَلَقُوا أُسَيدَ بن حُضَير، فنَعَوا إليه امرأتهَ، فتقنَّع يبكي، قالت: فقلتُ له: سبحانَ الله، أنتَ من أصحاب رسول الله ﷺ، ولكل السابقةُ، ما لَكَ تبكي على امرأة؟! فكَشَفَ عن رأسه، ثم قال: صدقتِ لَعَمْرُ اللَّهِ، وَاللَّهِ ليَحِقُّ أَن لا أَبكيَ على أحدٍ بعد سعدِ بن مُعاذٍ، وقد قال رسولُ الله ﷺ ما قال، قلتُ له: وما قال؟ قال: "لقد اهتزَّ العرشُ لوفاةِ سعدِ بن معاذٍ". قالت عائشةُ: وأُسَيدُ بن حُضَير يَسيرُ بيني وبين رسولِ الله ﷺ (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ عِياض بن غَنْم الأشعَري (1) ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5265 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ایک سفر سے واپس آ رہے تھے تو ذوالحلیفہ کے مقام پر لوگوں نے ہمارا استقبال کیا، انصار کے لڑکے استقبال کے لیے آیا کرتے تھے، وہ اسید بن حضیر سے ملے اور انہیں ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی، یہ سن کر اسید سر ڈھانپ کر رونے لگے، عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے ان سے کہا: ”سبحان اللہ! آپ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی ہیں اور آپ کو اسلام میں سبقت حاصل ہے، کیا آپ ایک عورت پر رو رہے ہیں؟“ تو انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ”آپ نے سچ کہا، اور اللہ کی قسم! سعد بن معاذ کی وفات کے بعد اب مجھ پر یہ حق ہے کہ میں کسی اور کے لیے نہ روؤں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں وہ بات فرمائی جو فرمائی“، میں نے ان سے پوچھا: آپ ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”بیشک سعد بن معاذ کی وفات پر عرشِ الٰہی جھوم اٹھا“، عائشہ فرماتی ہیں کہ اس گفتگو کے وقت اسید بن حضیر میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان چل رہے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
عیاض بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5347
درجۂ حدیث محدثین: إسناده فيه
تخریج حدیث «إسناده فيه لِينٌ كما تقدم بيانه برقم (4991).» [ترقيم الرساله 5347] [ترقيم الشركة 5302] [ترقيم العلميه 5265]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده فيه لِينٌ كما تقدم بيانه برقم (4991).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند میں "لین" (کمزوری) ہے جیسا کہ نمبر (4991) میں بیان ہو چکا۔
(1) نسبة عياض بن غَنْم هذا أشعريًا غلطٌ، وصاحبُ الترجمة إنما هو فِهريٌّ قرشيٌّ كما سيأتي لا أشعريٌّ يمنيّ، فذاك رجلٌ آخر، قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 4/ 758 وذكر الحديثَ الآتي برقم (5351) ونسبةَ عياضٍ فيه أشعريًا: أظن الأشعريَّ وهمٌ، والله أعلم، فإنَّ الذي وليَ الإمرة حيث كان هشام بالشام هو الفِهري لا الأشعري، لكن للأشعري حديث آخر؛ فذكره.
فنی نکتہ / علّت: (1) عیاض بن غنم کی نسبت "اشعری" کرنا غلط ہے، صاحبِ ترجمہ "فہری، قرشی" ہیں (جیسا کہ آگے آئے گا)، نہ کہ "اشعری، یمنی" (جو کہ ایک اور شخص ہیں)۔ حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" (4/ 758) میں حدیث نمبر (5351) اور اس میں عیاض کی نسبت "اشعری" ذکر کرنے کے بعد فرمایا: "میرا خیال ہے کہ اشعری (کہنا) وہم ہے، واللہ اعلم، کیونکہ جس کو امارت (گورنری) ملی جب ہشام شام میں تھے وہ فہری تھے اشعری نہیں، البتہ اشعری کی ایک اور حدیث ہے..." پھر انہوں نے وہ ذکر کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5347 سے ماخوذ ہے۔