حدیث نمبر: 5292M2
قال ابن عُمر: ولم يزل الحارث مقيمًا بمكة بعد أن أسلم، حتى تُوفِّي رسولُ الله ﷺ، فلما جاء كتابُ أبي بكر الصديق يَستنفِرُ المسلمين إلى غَزْوِ الروم قَدِم الحارثُ بن هشام وعِكْرمةُ بن أبي جهل وسهيلُ بن عمرو على أبي بكر المدينة، فأتاهم في مَنازلِهم فرحَّب بهم، وسلَّم عليهم، وسُرَّ بمَكانِهم، ثم خَرجُوا مع المسلمين غُزاةً إلى الشام، فشهد الحارثُ بن هشام فِحْلَ وأجْنادِينَ، ومات بالشام في طاعون عَمَواس سنة ثمانَ عشرةَ، فَخَلَفَ عمرُ بنُ الخطاب على امرأتِه فاطمة بنت الوليد بن المغيرة، وهي أم عبد الله بن الحارث، وكان عبد الرحمن يقول: ما رأيتُ ربيبًا خيرًا من عمر بن الخطاب، وكان عبد الرحمن بن الحارث بن هشام من أشرافِ قُريش (2).
حافظ طلحہ بابر

ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حارث (بن ہشام) رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے وصال تک مکہ ہی میں مقیم رہے، پھر جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خط پہنچا جس میں مسلمانوں کو رومیوں سے جنگ کے لیے بلایا گیا تھا، تو حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمرو، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ حاضر ہوئے، آپ ان کی منزلوں پر تشریف لے گئے، انہیں خوش آمدید کہا، سلام کیا اور ان کی آمد پر خوشی کا اظہار فرمایا، پھر وہ مسلمانوں کے ہمراہ شام کی طرف غازی بن کر نکلے، چنانچہ حارث بن ہشام معرکہ فحل اور اجنادین میں شریک ہوئے اور شام میں طاعونِ عمواس میں سنہ 18 ہجری میں وفات پائی، ان کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی اہلیہ فاطمہ بنت ولید بن مغیرہ سے نکاح کر لیا جو عبداللہ بن حارث کی والدہ تھیں، اور عبدالرحمن (بن حارث) کہا کرتے تھے کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی سوتیلا باپ نہیں دیکھا، اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام قریش کے اشراف میں سے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5292M2
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5292M2] [ترقيم الشركة 5246]