❮
❯
حدیث نمبر: 5292
فحدثني (1) سَلِيط بن مُسلم، عن عبد الله بن عِكرمة، قال: لما كان يومُ الفَتحِ دخَل الحارثُ بن هشام وعبدُ الله بن أبي رَبيعة على أم هانئ بنت أبي طالب، فاستَجَارا بها، فقالا: نحن في جِوارِكِ، فأجارتْهما، فدخل عليهما عليُّ بن أبي طالب، فنظر إليهما، فشَهَرَ عليهما السيفَ، فتفَلَّتَ عليهما، واعتَنقَتْه، وقالت: تصنعُ بي هذا من بين الناس لَتبدَأنّ بي قَبلَهما، فقال: تُجِيرين المشركين؟! فخرج، قالت أم هانئ: فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: يا رسول الله، ما لقيتُ من ابن أُمِّي عليَّ، ما كِدتُ أُفلِتُ منه؛ أجَرْتُ حَمَوينِ لي من المشركين، فتفلَّتَ عليهما ليقتُلَهما، فقال رسول الله ﷺ: "ما كان ذلك له، قد أَجَرْنا مَن أجرتِ، وأَمَّنا مَن أُمَّنْتِ" فرجعتْ إليهما فأخبرتْهُما، فانصرفا إلى منازِلهما، فقيل لرسول الله ﷺ: الحارثُ بنُ هشام وعبد الله بنُ أبي رَبيعة جالسان في نادِيهِما مُفتَضِلَين (1) في المُلاء المزَعْفَر، فقال رسول الله ﷺ: "لا سبيلَ إليهما، قد أمَّناهما". قال الحارث بن هشام: وجعلتُ استَحْيي أن يَراني رسولُ الله ﷺ وأُنكِرُ رؤيتَه إيّاي في كل مَوطِن مع المشركين، ثم أذكر بِرَّه ورحمته، فألقاهُ وهو داخلٌ المسجدَ فتلَقَّاني بالبِشْر، ووقف حتى جئتُه، فسلَّمتُ عليه وشَهِدتُ شهادةَ الحقِّ، فقال: "الحمدُ لله الذي هداك، ما كان مِثلُك يَجهَلُ الإسلامَ". قال الحارث: فوالله ما رأيتُ مثلَ الإسلامِ جُهِلَ (2).
حافظ طلحہ بابر

عبداللہ بن عکرمہ سے روایت ہے کہ فتحِ مکہ کے دن حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ابی ربیعہ، ام ہانی بنت ابی طالب کے پاس آئے اور ان سے پناہ مانگی، ان دونوں نے کہا: ہم آپ کی پناہ میں ہیں، تو انہوں نے ان کو پناہ دے دی، پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے پاس داخل ہوئے، ان کی طرف دیکھا اور ان پر تلوار سونت لی، وہ ان پر حملہ آور ہونے لگے تو ام ہانی ان سے لپٹ گئیں اور کہا: آپ تمام لوگوں میں سے میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں؟ آپ کو ان سے پہلے مجھے (ہی) ختم کرنا ہوگا، علی نے کہا: کیا تم مشرکوں کو پناہ دے رہی ہو؟ پھر وہ وہاں سے نکل گئے، ام ہانی کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنے بھائی علی سے شکایت ہے، میں بمشکل ان سے بچ سکی؛ میں نے اپنے دو رشتہ داروں کو پناہ دی تھی تو وہ انہیں قتل کرنے کے لیے ان پر حملہ آور ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں ایسا کرنے کا حق نہیں تھا، ہم نے اسے پناہ دی جسے تم نے پناہ دی، اور اسے امن دیا جسے تم نے امن دیا“، چنانچہ وہ ان کے پاس واپس گئیں اور انہیں مطلع کیا، پھر وہ دونوں اپنے گھروں کو چلے گئے، رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ابی ربیعہ اپنی مجلس میں زعفرانی رنگ کی خوبصورت چادریں اوڑھے بیٹھے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان پر دست درازی کی کوئی گنجائش نہیں، ہم انہیں امن دے چکے ہیں“۔ حارث بن ہشام کہتے ہیں: میں اس بات سے شرماتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ مجھے دیکھیں کیونکہ میں نے ہر موقع پر مشرکین کے ساتھ رہ کر آپ ﷺ کی مخالفت کی تھی، پھر میں نے آپ ﷺ کے احسان اور رحمت کو یاد کیا، تو میں آپ ﷺ سے اس حال میں ملا کہ آپ مسجد میں داخل ہو رہے تھے، آپ ﷺ مجھے دیکھ کر انتہائی خوش ہوئے اور ٹھہر گئے یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا، میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور حق کی گواہی (کلمہ شہادت) دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہدایت دی، تمہارے جیسا ذی شعور شخص اسلام کی حقیقت سے ناواقف نہیں رہ سکتا تھا“۔ حارث کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اسلام جیسی کسی شے کو نہیں دیکھا جس سے انسان (پہلے) نادان رہا ہو۔

قال ابن عمر: وحدثني الضّحّاك بن عثمان، أخبرني عبد الله بن عُبيد بن عُمير، سمعت عبد الرحمن بن الحارث بن هشام يحدِّث عن أبيه، قال: رأيتُ رسول الله ﷺ في حَجَّته وهو واقفٌ على راحلتِه، وهو يقول: "والله إنك لخَيرُ الأرض، وأحبُّ الأرض إلى الله، ولولا أني أُخرِجتُ منكِ ما خَرَجتُ"، قال: فقلتُ: يَا لَيتَنا لم نَفعَلْ، فارجِع إليها، فإنها مُنْيتُك ومَولدُك، فقال رسول الله ﷺ: "إني سألتُ ربّي ﷿، فقلتُ: اللهمّ إنك أخرجْتَني من أحبِّ أرضِك إليَّ، فأنزِلْني أحبَّ أرضِك إليكَ، فأنزَلَني المدينةَ" (1).
حافظ طلحہ بابر

عبد الرحمن بن حارث بن ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حج کے موقع پر دیکھا جبکہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور فرما رہے تھے: ”اللہ کی قسم! تو زمین کا بہترین ٹکڑا ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سرزمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا“، (حارث کہتے ہیں:) میں نے عرض کیا: کاش! ہم ایسا نہ کرتے، پس آپ واپس (مکہ) تشریف لے آئیں کیونکہ یہ آپ کی جائے پیدائش اور محبوب جگہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل سے عرض کیا تھا: اے اللہ! تو نے مجھے اپنی اس زمین سے نکالا جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، تو اب مجھے اس زمین پر بسا دے جو تیرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو، چنانچہ اللہ نے مجھے مدینہ میں بسا دیا“۔

قال ابن عُمر: ولم يزل الحارث مقيمًا بمكة بعد أن أسلم، حتى تُوفِّي رسولُ الله ﷺ، فلما جاء كتابُ أبي بكر الصديق يَستنفِرُ المسلمين إلى غَزْوِ الروم قَدِم الحارثُ بن هشام وعِكْرمةُ بن أبي جهل وسهيلُ بن عمرو على أبي بكر المدينة، فأتاهم في مَنازلِهم فرحَّب بهم، وسلَّم عليهم، وسُرَّ بمَكانِهم، ثم خَرجُوا مع المسلمين غُزاةً إلى الشام، فشهد الحارثُ بن هشام فِحْلَ وأجْنادِينَ، ومات بالشام في طاعون عَمَواس سنة ثمانَ عشرةَ، فَخَلَفَ عمرُ بنُ الخطاب على امرأتِه فاطمة بنت الوليد بن المغيرة، وهي أم عبد الله بن الحارث، وكان عبد الرحمن يقول: ما رأيتُ ربيبًا خيرًا من عمر بن الخطاب، وكان عبد الرحمن بن الحارث بن هشام من أشرافِ قُريش (2).
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر (واقدی) بیان کرتے ہیں کہ حارث (بن ہشام) رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے وصال تک مکہ ہی میں مقیم رہے، پھر جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خط پہنچا جس میں مسلمانوں کو رومیوں سے جنگ کے لیے بلایا گیا تھا، تو حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمرو، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ حاضر ہوئے، آپ ان کی منزلوں پر تشریف لے گئے، انہیں خوش آمدید کہا، سلام کیا اور ان کی آمد پر خوشی کا اظہار فرمایا، پھر وہ مسلمانوں کے ہمراہ شام کی طرف غازی بن کر نکلے، چنانچہ حارث بن ہشام معرکہ فحل اور اجنادین میں شریک ہوئے اور شام میں طاعونِ عمواس میں سنہ 18 ہجری میں وفات پائی، ان کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی اہلیہ فاطمہ بنت ولید بن مغیرہ سے نکاح کر لیا جو عبداللہ بن حارث کی والدہ تھیں، اور عبدالرحمن (بن حارث) کہا کرتے تھے کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی سوتیلا باپ نہیں دیکھا، اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام قریش کے اشراف میں سے تھے۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5292
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5292] [ترقيم الشركة 5246]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) قائل ذلك هو محمد بن عمر الواقدي.
نوٹ / توضیح: (1) یہ کہنے والے "محمد بن عمر الواقدی" ہیں۔
(1) المثبت من (م)، واضطربت بقية النسخ في رسمه. يقال: تفضَّل: إذا خالف اللابس بين أطراف ثوبيه على عاتقِه، أو لبس ثوبًا واحدًا. وتَفعَّل وافتعل يتناوبان مثل استمع تسمَّع، وادَّهن وتدهَّن.
نوٹ / توضیح: (1) جو متن میں ثابت کیا گیا ہے وہ نسخہ (م) سے ہے، باقی نسخوں میں اس کی کتابت میں اضطراب ہے۔ کہا جاتا ہے: "تفضَّل الرجل" یعنی جب پہننے والا اپنے دونوں کپڑوں کے کناروں کو اپنے کندھے پر مخالف سمت میں ڈال لے، یا ایک ہی کپڑا پہنے۔ "تفعّل" اور "افتعل" کے اوزان ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں (تناوب)، جیسے استمع اور تسمّع، ادّہن اور تدہّن۔
(2) وهو في "الطبقات الكبرى" 6/ 83 - ومن طريقه أخرجه ابن عساكر 11/ 495 - 496 - عن محمد بن عمر الواقدي، به. وسَلِيط بن مُسلم لم يرو عنه غير الواقدي والقعنبي، ونسبه الواقدي إلى عامر بن لؤي، وشيخه عبد الله بن عكرمة - وهو ابن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام - من أتباع التابعين، فالخبر معضل، لكن للواقدي في قصة الجوار إسناد آخر متصل ذكره في "مغازيه" 2/ 830، ومن طريقه أخرجه الأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 161 - 162، وتابعه عليه جماعةٌ عند أحمد 44/ (26892)، و 45 / (27380)، والنسائي (8631)، لكنه لم يقع في رواياتهم قصةُ إسلام الحارث بن هشام.
حوالہ / مصدر: (2) یہ "الطبقات الکبریٰ" (6/ 83) میں ہے - اور اسی واسطے سے ابن عساکر (11/ 495-496) نے تخریج کیا - جو محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سلیط بن مسلم سے واقدی اور قعنبی کے سوا کسی نے روایت نہیں کی، اور واقدی نے انہیں عامر بن لؤی کی طرف منسوب کیا ہے۔ ان کے شیخ عبد اللہ بن عکرمہ (جو عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام کے بیٹے ہیں) تبع تابعین میں سے ہیں، لہذا یہ خبر "معضل" ہے۔
اہم نکتہ: لیکن واقدی کے پاس پناہ (جوار) کے قصے کی ایک اور متصل سند موجود ہے جو انہوں نے اپنی "المغازی" (2/ 830) میں ذکر کی ہے۔ اس طریق سے اسے ازرقی نے "اخبار مکہ" (2/ 161-162) میں تخریج کیا ہے۔ ایک جماعت نے مسند احمد (44/ 26892 اور 45/ 27380) اور نسائی (8631) میں اس پر متابعت کی ہے، لیکن ان کی روایات میں حارث بن ہشام کے اسلام لانے کا قصہ موجود نہیں ہے۔
وأصلُ قصّة إجارة أم هانئ في "الصحيحين" "صحيح البخاري" (357)، و "صحيح مسلم" (719) (82)، لكن بذكر إجارة رجلٍ واحدٍ غيرهما. وانظر كلام ابن حجر في "فتح الباري" 2/ 227.
حوالہ / مصدر: ام ہانی رضی اللہ عنہا کی پناہ (اجارہ) کے قصے کی اصل "صحیحین" یعنی صحیح بخاری (357) اور صحیح مسلم (719/ 82) میں موجود ہے، لیکن وہاں ان دونوں کے علاوہ ایک اور آدمی کو پناہ دینے کا ذکر ہے۔ مزید دیکھیں: فتح الباری (2/ 227) میں ابن حجر کا کلام۔
(1) رجال إسناده من فوق الواقدي لا بأس بهم، لكن انفرد الواقدي بروايته بهذا الإسناد، ولم يتابعه عليه أحدٌ، بل جاء في روايته هذه بما يُنكر، وهو المرفوعُ في آخر الحديث الذي يعارِضُ المرفوعَ الذي في أوله، فصريحُ المرفوع في أوله أنَّ مكة هي أحب البقاع إلى الله، وصريح المرفوع في آخره أنَّ المدينة هي أحبُّ البقاع إلى الله، وكفى بهذا دليلًا على ضعف هذه الرواية، وقد روي هذا الحرفُ الأخير المرفوع مفردًا من حديث أبي هريرة كما تقدَّم عند المصنف برقم (4307)، لكن إسناده واهٍ بمرّة، بل حكم عليه الذهبي وغيره بالوضع. وكونُ مكةَ هي أحبَّ الأرض إلى الله صحيحٌ ثابتٌ كما تقدَّم بيانه عند الحديث (4307).
فنی نکتہ / علّت: (1) واقدی سے اوپر والے راویوں میں کوئی حرج نہیں، لیکن واقدی اس سند کے ساتھ روایت کرنے میں "منفرد" ہیں اور کسی نے ان کی متابعت نہیں کی۔ بلکہ وہ اپنی اس روایت میں ایک منکر بات لائے ہیں، اور وہ حدیث کے آخر میں مذکور مرفوع حصہ ہے جو حدیث کے شروع میں مذکور مرفوع حصے کے معارض (خلاف) ہے۔ شروع میں صراحت ہے کہ مکہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین جگہ ہے، اور آخر میں صراحت ہے کہ مدینہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین جگہ ہے۔ یہ اس روایت کے ضعف پر کافی دلیل ہے۔
اہم نکتہ: یہ آخری مرفوع ٹکڑا الگ سے حضرت ابوہریرہ کی حدیث سے بھی مروی ہے (دیکھیں مصنف کا نمبر 4307)، لیکن اس کی سند انتہائی کمزور (واہی) ہے، بلکہ ذہبی وغیرہ نے اسے "موضوع" قرار دیا ہے۔ اور یہ بات صحیح اور ثابت ہے کہ مکہ ہی اللہ کے نزدیک سب سے محبوب زمین ہے جیسا کہ حدیث نمبر (4307) کی تحقیق میں گزر چکا۔
وأخرج رواية الواقدي هذه ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 6/ 84 عن محمد بن عمر الواقدي، بهذا الإسناد. ومن طريق ابن سعدٍ أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 11/ 492.
حوالہ / مصدر: واقدی کی یہ روایت ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (6/ 84) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کی ہے۔ اور ابن سعد کے طریق سے اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (11/ 492) میں نکالا ہے۔
(2) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 6/ 84 - 85 عن محمد بن عمر الواقدي.
حوالہ / مصدر: (2) یہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (6/ 84-85) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5292 سے ماخوذ ہے۔