المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ الَّذِي بَصَّرَ الْبَصْرَةَ باب: سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان، جنہوں نے بصرہ کی بنیاد رکھی
حدیث نمبر: 5216
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُروة، قال: عُتْبة بن غَزْوان بن جابر بن وُهَيب بن نُسَيب ابن مالك بن الحارث بن مازن بن منصور بن عِكرمة بن خَصَفة بن قَيس عَيْلانَ بن مُضَر بن نِزار (1).
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے مروی ہے کہ عتبہ بن غزوان بن جابر بن وہیب بن نسیب بن مالک بن حارث بن مازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس عیلان بن مضر بن نزار (ان کا مکمل نسب ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" 17/ (274) عن محمد بن عمرو بن خالد الحرَّاني - وهو أبو عُلَاثة - بهذا الإسناد. لكن جاء في المطبوع منه: ابن وَهب، بدل: ابن وُهيب. وكذلك جاء عند أكثر من ذكر هذا النسب.
حوالہ / مصدر: (1) اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" [17/ (274)] میں محمد بن عمرو بن خالد الحرانی (ابو علاثہ) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن مطبوعہ نسخے میں "ابن وہیب" کی جگہ "ابن وہب" چھپ گیا ہے۔ اور جنہوں نے یہ نسب ذکر کیا ہے ان میں سے اکثر کے ہاں ایسا ہی (وہب) آیا ہے۔
حوالہ / مصدر: (1) اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" [17/ (274)] میں محمد بن عمرو بن خالد الحرانی (ابو علاثہ) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن مطبوعہ نسخے میں "ابن وہیب" کی جگہ "ابن وہب" چھپ گیا ہے۔ اور جنہوں نے یہ نسب ذکر کیا ہے ان میں سے اکثر کے ہاں ایسا ہی (وہب) آیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5216 سے ماخوذ ہے۔