المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذكر شهادة سلمة بن هشام باب: سیدنا سلمہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
فحدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حدثنا سليمان بن داود، حدثني محمد بن عمر، قال: ثم إِنَّ سَلَمة بن هشام أفْلَتَ بعد ذلك، فلَحِقَ برسول الله ﷺ بالمدينة، وذلك بعد الخَندق، فقالت أمُّه ضُبَاعة بنت عامر بن قُرْط (2) بن سَلَمة بن قُشير بن كَعْب بن عامر بن ربيعة: اللهُمَّ ربَّ الكعبةِ المُحرَّمَهْ … أَظهِرْ على كُلِّ عدوٍّ سَلَمهْ لَه يَدانِ في الأمورِ المُبهَمَهْ … كَفٌّ بها يُعطِي وكَفٌّ مُنعِمهْ فلم يَزَل مع رسول الله ﷺ حتى قَبِض رسولُ الله ﷺ، فخرج مع المسلمين إلى الشام حين بَعَث أبو بكر الجيوشَ لجهاد الرُّوم، فقُتل سَلَمةُ شهيدًا بمَرْج الصُّفَّر في المُحرَّم سنةَ أربعَ عشرةَ في خِلافة عُمر ﵁ (1). ذكرُ مناقب سعد بن عُبادة الخَزْرجي النَّقِيب ﵁ -
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد سلمہ بن ہشام رضی اللہ عنہ (قید سے) نکل بھاگے اور مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے، یہ واقعہ غزوہ خندق کے بعد کا ہے، ان کی آمد پر ان کی والدہ ضباعہ بنت عامر بن قرط نے (خوشی میں یہ اشعار) کہے: ”اے اللہ! کعبہ مشرفہ کے رب، سلمہ کو ہر دشمن پر غلبہ عطا فرما، وہ مبہم اور پیچیدہ معاملات میں بڑی مہارت رکھنے والا ہے، اس کا ایک ہاتھ سخاوت کرنے والا اور دوسرا ہاتھ انعام و اکرام بانٹنے والا ہے“، پھر وہ مسلسل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا وصال ہو گیا، پھر جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے جہاد کے لیے لشکر روانہ کیے تو وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ شام چلے گئے، چنانچہ سلمہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں محرم سنہ 14 ہجری میں مرج الصفر کے مقام پر شہید ہوئے۔
سیدنا سعد بن عبادہ خزرجی نقیب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "قسیط" ہو گیا ہے، درست نام کتب صحابہ میں ان کے حالات سے لیا گیا ہے۔
(1) وهو في "طبقات ابن سعد" 4/ 122 عن محمد بن عمر الواقدي.
حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن سعد کی "الطبقات" [4/ 122] میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔