المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَا تُؤْذُوا مُسْلِمًا بِكَافِرٍ وَالنَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ باب: کسی مسلمان کو کسی کافر کی وجہ سے اذیت نہ دو
حدیث نمبر: 5137
أخبرني أبو عبد الله الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبّاد، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "رأيتُ في المَنام كأنَّ أبا جَهْلٍ أتاني فبايَعَني"، فلما أسلَم خالدُ بن الوليد قيل لرسول الله ﷺ: قد صَدَّق اللهُ رؤياك يا رسول الله، هذا كان إسلامَ خالدٍ، فقال: "لَيكُونَنَّ غَيْرُه"، حتى أسلمَ عِكْرمةُ بن أبي جَهْل، وكان ذلك تصديقَ رُؤياهُ (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5060 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ابوجہل میرے پاس آیا اور اس نے میری بیعت کر لی ہے“، پھر جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول، اللہ نے آپ کے خواب کو سچ کر دکھایا، یہ (خواب) خالد کا اسلام لانا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد کوئی اور (بھی) ہوگا“، یہاں تک کہ جب عکرمہ بن ابی جہل اسلام لائے تو وہ آپ کے خواب کی تصدیق ثابت ہوئی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات، لكن المحفوظ فيه في رواية إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد - وهو الدَّبَري راوي مُصنف عبد الرزاق، و "جامع معمر بن راشد" - أنه عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري مرسلًا، ليس فيه ذكر أبي بكر بن عبد الرحمن ولا عائشة، كذلك جاء في "جامع معمر" (20365).
فنی نکتہ / علت: اس کے رجال "ثقہ" ہیں، لیکن اس میں "محفوظ" بات یہ ہے کہ اسحاق بن ابراہیم بن عباد (الدبری، جو مصنف عبد الرزاق اور جامع معمر بن راشد کے راوی ہیں) کی روایت کے مطابق یہ "عبد الرزاق عن معمر عن الزہری" سے "مرسلاً" مروی ہے، اس میں ابوبکر بن عبد الرحمن اور حضرت عائشہ ؓ کا ذکر نہیں ہے۔ "جامع معمر" (20365) میں بھی ایسے ہی آیا ہے۔
لكن رواه ابن المبارك في "الجهاد" (55) عن معمر عن الزهري، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام مرسلًا، فذكر أبا بكر، لكنه لم يذكر عائشة، فلا يُحفَظ فيه ذكر عائشة بيقينٍ، كذلك لا يُحفظ ذكر أبي بكر بن عبد الرحمن في رواية الدبري عن عبد الرزاق، لكن يُحفظ ذكرُه في رواية ابن المبارك عن معمر.
فنی نکتہ / اضطراب: لیکن ابن المبارک نے "الجہاد" (55) میں اسے معمر عن الزہری عن ابی بکر بن عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام سے "مرسلاً" روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے ابوبکر کا ذکر تو کیا لیکن حضرت عائشہ کا ذکر نہیں کیا۔ لہٰذا اس میں حضرت عائشہ کا ذکر یقینی طور پر "محفوظ نہیں" ہے۔ اسی طرح دبری کی عبد الرزاق سے روایت میں ابوبکر بن عبد الرحمن کا ذکر محفوظ نہیں ہے، البتہ ابن المبارک کی معمر سے روایت میں ان کا ذکر محفوظ ہے۔
فنی نکتہ / علت: اس کے رجال "ثقہ" ہیں، لیکن اس میں "محفوظ" بات یہ ہے کہ اسحاق بن ابراہیم بن عباد (الدبری، جو مصنف عبد الرزاق اور جامع معمر بن راشد کے راوی ہیں) کی روایت کے مطابق یہ "عبد الرزاق عن معمر عن الزہری" سے "مرسلاً" مروی ہے، اس میں ابوبکر بن عبد الرحمن اور حضرت عائشہ ؓ کا ذکر نہیں ہے۔ "جامع معمر" (20365) میں بھی ایسے ہی آیا ہے۔
لكن رواه ابن المبارك في "الجهاد" (55) عن معمر عن الزهري، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام مرسلًا، فذكر أبا بكر، لكنه لم يذكر عائشة، فلا يُحفَظ فيه ذكر عائشة بيقينٍ، كذلك لا يُحفظ ذكر أبي بكر بن عبد الرحمن في رواية الدبري عن عبد الرزاق، لكن يُحفظ ذكرُه في رواية ابن المبارك عن معمر.
فنی نکتہ / اضطراب: لیکن ابن المبارک نے "الجہاد" (55) میں اسے معمر عن الزہری عن ابی بکر بن عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام سے "مرسلاً" روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے ابوبکر کا ذکر تو کیا لیکن حضرت عائشہ کا ذکر نہیں کیا۔ لہٰذا اس میں حضرت عائشہ کا ذکر یقینی طور پر "محفوظ نہیں" ہے۔ اسی طرح دبری کی عبد الرزاق سے روایت میں ابوبکر بن عبد الرحمن کا ذکر محفوظ نہیں ہے، البتہ ابن المبارک کی معمر سے روایت میں ان کا ذکر محفوظ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5137 سے ماخوذ ہے۔