حدیث نمبر: 4944
أخبرنا أبو العباس المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى أخبرنا أسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر، قال: رجعَ رسولُ الله ﷺ يوم أُحُد، فسمع نساءَ بني عبد الأشْهَل يَبكِين على هَلْكاهُنَّ، فقال: "لكنَّ حمزةَ لا بَواكيَ له"، فجئن نِساءُ الأنصار فبَكَين على حمزة عنده، ورَقَد فاستيقَظ وهنَّ يَبكِين، فقال: "يا وَيلَهنَّ، إنهن لَهاهُنا حتى الآن؟! مُروهُنَّ فليرجِعْن، ولا يَبكِين على هالكٍ بعدَ اليوم (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جنگِ احد کے دن واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے بنو عبد الاشہل کی عورتوں کے رونے کی آواز سنی جو اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کے لیے تو کوئی رونے والی نہیں ہے“، چنانچہ انصار کی عورتیں آئیں اور آپ ﷺ کے پاس حمزہ پر رونے لگیں، آپ ﷺ سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو وہ اب بھی رو رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”افسوس ان پر، کیا یہ اب تک یہیں ہیں؟! انہیں کہو کہ واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر (اس طرح) نہ روئیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4944
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو اللَّيثي.» [ترقيم الرساله 4944] [ترقيم الشركة 4911]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو اللَّيثي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند اسامہ بن زید - جو کہ اللیثی ہیں - کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 9 / (4984) و (5563) و (5666)، وابن ماجه (1591) من طرق عن أسامة بن زيد الليثي، به.
حوالہ / مصدر: اسے مسند احمد: 9/ (4984)، (5563) اور (5666) میں، اور ابن ماجہ: (1591) میں اسامہ بن زید اللیثی سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔
وسيأتي برقم (4952) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة عن أسامة بن زيد الليثي.
تفصیلِ روایت: یہ روایت عنقریب نمبر (4952) کے تحت ابو اسامہ حماد بن اسامہ کے طریق سے، وہ اسامہ بن زید اللیثی سے روایت کریں گے، آئے گی۔
ولأسامة بن زيد الليثي فيه إسنادٌ آخر تقدَّم عند المصنف برقم (1423)، يروي الحديثَ ثمة عن الزهري عن أنس بن مالك. وجمع البزار (6345) و (6346) وأبو يعلى (3576) وغيرهما بين إسناديه هذين، فالظاهر أنَّ أسامة حفظهما، والله أعلم.
فنی نکتہ / علّت: اسامہ بن زید اللیثی کے پاس اس حدیث کی ایک اور سند بھی ہے جو مصنف (حاکم) کے ہاں نمبر (1423) کے تحت گزر چکی ہے، وہاں وہ اسے زہری سے اور وہ انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں۔
مجموعی اصول / قاعدہ: جبکہ مسند بزار: (6345) و (6346) اور مسند ابو یعلیٰ: (3576) وغیرہ نے اسامہ کی ان دونوں سندوں کو جمع کیا ہے، پس ظاہر یہی ہے کہ اسامہ کو یہ دونوں سندیں یاد تھیں، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4944 سے ماخوذ ہے۔